1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

 ’ہم کس لیبر ڈے کی بات کر رہے ہیں ؟‘

لگ بھگ ایک صدی  سے عالمی سطح پر مزدوروں اور لیبر یونینز کی جانب سے  یکم مئی کو مزدورں کے عالمی دن منانے کا رواج چلا آ رہا  ہے۔ درجنوں ممالک میں یکم مئی کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آج سرکاری چھٹی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ہیش ٹیگ لیبر ڈے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ کئی افراد کی رائے میں پاکستان میں مزدور اب بھی انتہائی مظلوم طبقہ ہے اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔

آمنہ راشد نامی ایک صارف نے ایک مزدور کی تصویر کو ٹوئٹر پر شیئر کیا اور لکھا،’’ مزدور آج کے دن بھی کام کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ وہ ایک دن کی اجرت ضائع نہیں کر سکتے لیکن افسران چھٹی منا رہے ہیں۔‘‘

صحافی زاہد گشکوری نے لکھا،’’ ہم کس لیبر ڈے کی بات کر رہے ہیں ؟ میں ایسے 25 مزدوروں سے ملا ہوں جو آج کے دن بھی ایک سرکاری عمارت کی تعمیر کا کام کر رہے ہیں۔‘‘

ان ٹوئٹس سے یہ اندازہ تو ضرور ہوتا ہے کہ مزدوروں کا استحصال آج بھی جاری ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم  کارکنوں کے لیے یکم مئی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ سن 1880 کی دہائی میں امریکا  بھر میں مزدوروں کی تنظیموں نے کام کی جگہوں  پر بہتر ماحول اور صرف آٹھ گھنٹے تک کام کرنے کے حق میں اپنی مہم چلائی اور احتجاج کرنا شروع کیا تھا۔ ان یونینز کے کارکنوں کی جانب سے کئی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیے گئے۔

تب امریکی شہر شکاگو میں خاص طور سے بہت بڑے پیمانے پر احتجاج کا انعقاد ہوا تھا۔ مئی 1886 کو ایک ایسی ہی ریلی کا انجام انتہائی دردناک ہوا۔ اس  مظاہرے پر بم پھینکا گیا  اور پولیس نے جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ ایسے کئی کارکن جن میں سے زیادہ تارکین وطن تھے ان پر تشدد پر اکسانے کے الزامات لگائے گئے اور ان میں سے چار افراد کو پھانسی دے دی گئی۔ اس واقعے کے بعد لیبر یونینز کی جانب سے یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی گئی۔

 اس دن کی تاریخ کافی پرانی ہے لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر جنوبی ایشائی اور افریقی ممالک اور یہاں تک کے مشرق وسطیٰ کے بھی کئی ممالک میں مزدوروں کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے۔ کئی ممالک میں کم سن بچے بھی غربت کے باعث محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ 

DW.COM