1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہم کبھی نہیں بھولیں گے‘، باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے نیویارک میں دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بننے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام گراؤنڈ زیرو کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں پھول چڑھائے اور تقریباﹰ دس برس پہلے ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

default

باراک اوباما نے یہ دورہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے تناظر میں کیا، جسے امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جا تا ہے۔ گراؤنڈ زیرو پر اوباما نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں سے ملاقات بھی کی۔

باراک اوباما نے امریکی صدر کی حیثیت سے گراؤنڈ زیرو کا دورہ پہلی مرتبہ کیا ہے۔ انہوں نے وہاں تقریر نہیں کی، تاہم پھول چڑھانے کے بعد شہر کی انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ کچھ دیر کی خاموشی اختیار کی۔

قبل ازیں اوباما نیویارک میں اس فائر ہاؤس میں بھی گئے، جس کے پندرہ اہلکار ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ وہاں اوباما نے کہا، ’جب ہم کہتے ہیں کہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم ہرگز نہیں بھولیں گے۔‘

اوباما جمعہ کو کینٹکی میں فورٹ کیمپبیل کا دورہ بھی کریں گے، جہاں وہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ کے ٹھکانے پر حملے میں شریک بعض ایلیٹ کمانڈوز سے ملاقات کریں گے۔

اوباما نے فائرہاؤس کا دورہ بھی کیا

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’صدر اس آپریشن میں شامل کچھ اہلکاروں سے مل کر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کریں گے۔‘

امریکی کمانڈوز نے رواں ہفتے پیر کو علی الصبح پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک کارروائی کی،جس میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ اسامہ کی پاکستان میں ہلاکت اسلام آباد حکومت پر دباؤ کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں واشنگٹن حکام وضاحت چاہتے ہیں۔ بعض سینیٹرز پاکستان کے لیے امریکی امداد کو اس حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے مشروط کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم امریکی کانگریس کے رہنماؤں نے اب پاکستان کے لیے امداد جاری رکھنے کے خیال کی حمایت کی ہے۔ ہاؤس اسپیکر جان بوئینیر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کوتعاون برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’یہ پاکستان سے منہ موڑنے کا وقت نہیں، یہ ان کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون کا وقت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امداد جاری رہنی چاہیے۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس