1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہم نہیں، تم جاؤ گے‘: مظاہرین کا مبارک کو پیغام

آج مسلسل 9 ویں روز مصری دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی التحریر چوک میں مظاہرین جمع ہو رہے ہیں اور اُن کی کوشش ہے کہ صدر حسنی مبارک کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیں۔

default

مبارک نے گزشتہ شب اپنے ایک ٹیلی وژن خطاب میں یہ یقین دلایا کہ وہ چھٹی دفعہ عہدہء صدارت کے لیے اُمیدوار کے طور پر میدان میں نہیں اُتریں گے۔ اپنے خطاب میں اُنہوں نے کہا:’’اب میری اولین ذمہ داری یہ ہو گی کہ ہمارے اِس ملک میں پھر سے سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ اپنے دَورِ صدارت کے آخری مہینوں میں مَیں وہ تمام ضروری اقدامات عمل میں لاؤں گا، جن کی مدد سے اقتدار پُر امن طریقے سے اُن لوگوں کو منتقل ہو سکے، جنہیں عوام چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم یہ مظاہرین اپنے سربراہِ مملکت کو بدستور ایک واضح پیغام دے رہے ہیں۔ چوک کے اطراف میں نصب کیے گئے لاؤڈ اسپیکرز سے مسلسل اِس نعرے کی گونج سنائی دے رہی ہے کہ ’ہم نہیں جائیں گے، تم جاؤ گے‘۔

Norwegen USA Friedensnobelpreis 2009 für Barack Obama

2009ء کی تصویر میں امریکی صدر باراک اوباما مصری سربراہِ مملکت حسنی مبارک کے ساتھ، جنہیں اب اوباما نے اقتدار کی پُر امن منتقلی کا مشورہ دیا ہے

مصری شہروں کی عام طور پر خاموش سڑکوں پر گزشتہ 9 روز سے جاری پُر شور احتجاج نے بہت سے مصری باشندوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اِن احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے گروپ کو اب مصری عوام کے ایک بڑے طبقے کو اِس بات کا قائل کرنا پڑے گا کہ مبارک پر مستعفی ہونے کے لیے اب تک ڈالا جانے والا دباؤ برقرار رکھا جانا چاہئے۔ مبارک نے گزشتہ رات اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ ستمبر میں مجوزہ صدارتی انتخابات تک بدستور اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

مرکزی التحریر چوک میں، جہاں منگل کو لاکھوں شہری جمع تھے، آج دن کے آغاز پر کم از کم 1500 مظاہرین موجود تھے، جن میں سے اکثر نے رات وہیں نصب کیے گئے خیموں میں گزاری تھی۔ یہ مظاہرین اُس وقت تک یہاں جمے رہنا چاہتے ہیں، جب تک کہ صدر مستعفی نہیں ہو جاتے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے کل منگل کو حسنی مبارک پر زور دیا کہ وہ اقتدار کی بتدریج اور پُر امن منتقلی کو یقینی بنائیں۔ مصری عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے اوباما نے کہا:’’مصری عوام اور خاص طور پر وہاں کی نوجوان نسل کو اِس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ ہم اُن کا موقف سن رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تم لوگ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرو گے اور اپنے بچوں اور آگے اُن کے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل تشکیل دو گے۔ مَیں یہ باتیں ایک ایسے شخص کے طور پر کر رہا ہوں، جسے امریکہ اور مصر کے درمیان شراکت پر پختہ یقین ہے۔‘‘

NO FLASH Frankreich Tunesien Nicolas Sarkozy Zine El-Abidine Ben Ali

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی، جن کے ساتھ گہرے روابط پر سارکوزی تنقید کی زد میں ہیں اور غالباً اب اِسی تنقید کو رفع کرنے کے لیے اُنہوں نے مصر میں اقتدار کی ’بلا تاخیر‘ منتقلی پر زور دیا ہے

دیگر کئی ممالک کی طرح امریکہ بھی اپنے زیادہ تر شہریوں اور سفارتکاروں کو مصر سے نکال رہا ہے۔ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصر میں حکومت کی تبدیلی ’بلا تاخیر‘ عمل میں آنی چاہئے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے بھی کہا ہے کہ ستمبر میں صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے سلسلے میں مبارک کا فیصلہ کافی نہیں ہے اور اُنہیں فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہئے۔

اِسی دوران تین مصری شہروں قاہرہ، اسکندریہ اور سوئز میں کرفیو کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں اور ملکی اَفواج نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اب معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں۔ مصری پارلیمان کے اسپیکر نے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں صدر مبارک نے جن آئینی اصلاحات کے وعدے کیے ہیں، اُن پر کام ڈہائی ماہ سے بھی کم عرصے کے اندر اندر مکمل ہو جانا چاہئے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس