1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ہم صرف بڑھکیں سنتے رہتے ہیں‘

عام طور پر پاکستانی مقتدر حلقے قلیل المدتی مقاصد کے لیے ہی کام کرتے ہیں۔ لاہور میں کتنے لوگ رہتے ہیں؟ حتمی طور پر قطعیت کے ساتھ کوئی نہیں بھی نہیں جانتا۔ کیا پنجاب کے تمام اضلاع میں وسائل منصفانہ طریقے سے لگ رہے ہیں؟

پاکستان کے ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں آج کل سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حالیہ مردم شماری کے بعد حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی روشنی میں اب موثر پلاننگ اور بہتر ڈیویلپمنٹ ممکن ہو سکے گی؟

اس سوال کے جواب میں پاکستان کے ممتاز ماہر عمرانیات پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کا کہنا ہےکہ اس بات کے امکانات کم ہیں کہ مردم شماری کے بعد پاکستان کے ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں کوئی انقلابی تبدیلیاں رونما ہو جائیں گی۔ ان کے بقول پاکستانی سوسائٹی ڈیٹا بیسڈ سوسائٹی نہیں ہے، یہاں فیصلہ سازی اعداد و شمار کو مد نظر رکھ کر نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق عام طور پر پاکستان میں مقتدر حلقے شارٹ ٹرم گولز کے لیے ہی کام کرتے ہیں، ’’لاہور میں کتنے لوگ رہتے ہیں؟ حتمی طور پر قطعیت کے ساتھ کوئی نہیں جانتا۔ یہ اکیسویں صدی ہے، دنیا میں کہیں بھی کاپی پینسل اور رجسٹر پکڑ کر اساتذہ اور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ اس طرح مردم شماری نہیں ہوتی، جیسی ہمارے ہاں ہوتی ہے۔  پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کا کہنا ہے، ’’ہم یورپ کے لوگوں کو اپنی مردم شماری کا طریقہ بتاتے ہیں تو وہ حیران ہوتے ہیں۔ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے کمپیوٹر کے ایک بٹن دبانے سے یہ معلوم ہو جانا چاہیے کہ لاہور میں کتنے گھرانے ہیں، کتنے لوگ بستے ہیں، کتنا پانی استعمال ہوتا ہے اور کتنی بجلی استعمال ہوتی ہے۔‘‘

Zikria Zakir (privat)

ماہر عمرانیات پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر

پاکستان کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کو میسر محدود امکانات

 پروفیسر زکریا ذاکر پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر آف سوشیالوجی، سوشل سائسز کے ڈین اور انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ہم ڈیٹا یا حقائق کا بڑا احترام کرتے ہیں بلکہ اصل صورت حال تو یہ ہے کہ ہم نے شادی پر لوگ بلانے ہوں تو اس پر بھی ڈیٹا کی کیئر نہیں کرتے، کھانے کی میزیں اور کرسیاں کم پڑ جاتی ہیں، 600 آدمیوں کے کھانے کا انتظام ہوتا ہے 1200افراد کو دعوت نامے بھیج دیے جاتے ہیں اور وہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملتی۔ جس طرح ہم ذاتی زندگی چلا رہے ہیں بالکل اسی طرح ہم اجتماعی زندگی چلا رہے ہیں، ’’ کیا آپ نے کبھی حکومت پنجا  کے کسی سیکریٹری کو دیکھا ہے کہ وہ پلاننگ کر رہا ہو کہ صوبے میں اتنے لوگ ہیں، اتنے ہسپتال درکار ہیں، اتنے وسائل کی ضرورت ہے۔ یہاں تو جو ایم اے اردو کرکے مقابلے کا امتحان پاس کر لے وہ بھی سیکریٹری ہیلتھ لگ سکتا ہے۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ مردم شماری کے عمل میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں درست طریقے سے ڈیٹا بیسڈ سوسائٹی بننا ہوگا اور اس ڈیٹا کا احترام کرنا ہوگا،  ’’میری ذاتی رائے یہ ہے کہ روایتی مردم شماری سے جامع معلومات کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ اصل بات جو مردم شماری میں دیکھنی چاہیے وہ یہ ہے لوگوں کا میعار زندگی کیسا ہے؟ کتنے لوگ صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے محروم ہیں؟ کتنے لوگوں کو پوری غذا میسر نہیں ہے؟ میں بچوں کی شرح اموات کی روک تھام کے لیے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دیہی علاقوں میں بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوتی ہے یا ہسپتالوں میں ؟ حاملہ خواتین کو پوری غذا ملتی ہے کہ نہیں، نوزائیدا بچوں کو بریسٹ فیڈنگ کا رجحان کیوں کم ہو رہا ہے؟  اگرچہ اس طرح کی معلومات کے لیے الگ سے بھی کئی سروے کئے جاتے ہیں، لیکن مردم شماری کی لمبی چوڑی مشق میں صرف سر گننا فائدہ مند نہیں ہے اس سے تفصیلی ڈیٹا نہیں ملتا۔‘‘

پاکستان میں مردم شماری کا عمل اور اقلیتیں

مردم شماری میں حاصل ہونے والے ڈیٹا کے استعمال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’مردم شماری سے جو ڈیٹا ملتا ہے اسے عام طور پر سیاسی لوگ اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ وہ وفاقی آمدن سے اس ڈیٹا کی مدد سے زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرسکیں۔ آپ خود ہی بتائیں کہ ان مردم شماریوں کے نتیجے میں ملنے والے ڈیٹا کی رو سے پاکستان میں جو وسائل کی تقسیم ہوتی رہی ہے، کیا وہ منصفانہ تھی؟ کیا پنجاب کے تمام اضلاع میں وسائل منصفانہ طریقے سے لگ رہے ہیں؟ ہمیں صرف مردم شماری سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیئں۔‘‘

 یونیورسٹیوں میں بہت سے لوگ تحقیق کرتے ہیں۔ کیا ان کی کاوشوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جانا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر زکریا ذاکر کا کہنا تھا کہ اگر شہریوں کی صحت کی بہتری کے لیے میں تحقیق کروں، سروے کروں، بیماریوں کی وجہ بننے والے عوامل تلاش کروں، ماہرین سے مل کر بہتری کی تجاویز مرتب کروں اور پھر یہ سب کچھ ایک رپورٹ کی شکل میں سیکریٹری ہیلتھ کو بھجواوں، تو میرا خیال ہے کہ وہ کوئی احمق ہی ہو گا جو یہ تصور کرے کہ سیکریٹری ہیلتھ اس رپورٹ پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس کو دیکھنا بھی پسند کرے گا۔ جرمنی میں یہ روایت ہے کہ وہاں حکومت کی طرف سے جامعات کو مختلف علاقوں میں شہریوں کو دستیاب سہولتوں کے حوالے سے تحقیقی پراجیکٹس دیتے ہیں اور ان تحقیقات کی روشنی میں ڈیویلپمنٹ کے امور کے حوالے سے فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔ جرمن منسٹری آف فیملی اینڈ چائلڈ ویلفئیر تو خود یونیورسٹیوں سے رابطہ کر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی غذائی ضروریات  کے حوالے سے تازہ ترین معلومات حاصل کرتی ہے، ’’اصل بات یہ ہے کہ حکومتی حلقوں کو شہریوں کے مسسائل کا درست ادراک تک نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کا بچہ بھوکا ہے، تو کیا ریاست کے پاس کوئی ایسا بندوبست ہے کہ حکومت تک یہ اطلاع پہنچ جائے کہ یہ بچہ بھوکا ہے، ہمارے آئین میں ہمارے حقوق لکھے ہوئے ہیں، لیکن ہم صرف بڑھکیں سنتے رہتے ہیں۔‘‘

Pakistanische Studenten Besuch Uni Bonn (DW/A.Ishaq)

 یونیورسٹیوں میں بہت سے لوگ تحقیق کرتے ہیں۔ کیا ان کی کاوشوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جانا چاہیے؟

دنیا بھر میں آج کل اعلی فنی تعلیم کو انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق بنانے کی بات کی جا رہی ہے، ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر زکریا ذاکر کا کہنا تھا، ’’دیکھیے ترقی یافتہ دنیا میں انڈسٹری پوری طرح فنگشنل ہے، اس لیے ان کے مسائل سامنے آتے ہیں تو ان کے حل کو ڈھونڈنے کی کوششیں بھی نظر آتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو حالیہ برسوں میں لوڈ شیڈنگ اور دوسرے مسائل نے انڈسٹری کا جو حال کیا ہے، وہ آپ کے سامنے ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مانگ کر کھانے والوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ آٹا کہاں پیسا جاتا ہے۔ "

حالیہ مردم شماری کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی رائے میں حالیہ مردم شماری کا عمل بڑی حد تک منصفانہ طریقے سے مکمل کیا گیا ہے، ’’ اس کے باوجود میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس مردم شماری سے ملنے والے نتائج سو فی صد درست ہیں، نتائج کی درستی سو فی صد نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں مردم شماری کے عمل میں کوئی ساز باز ہوئی ہے، اصل بات یہ ہے کہ مردم شماری کرنے والی سرکاری مشینری کی صلاحیت محدود ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’حقیقت یہ ہے کہ اصل مئسلہ مردم شماری  میں نہیں ہے اصل مئسلہ کہیں اور ہے، اگر سسٹم درست طریقے سے چل رہا ہوں ، پارلیمنٹ اپنے فرائض ٹھیک طریقے سے سر انجام دے رہی ہو، حکومت اچھی حکمرانی کے اصولوں کو اپنا کر لوگوں کے مسائل حل کر رہی ہوتو پھر قومی اہمیت کے حامل امور کے حوالے سے چھوٹے صوبوں کے خدشات میں کافی کمی لائی جا سکتی ہے۔‘‘

DW.COM