1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہم صدر باگبو کے ساتھ ہیں، آئیوری کوسٹ کی فوج کا اعلان

مغربی افریقی ملک آئیوری کوسٹ کی مسلح افواج نے واضح کردیا ہے کہ وہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنے صدر لوراں باگبو کے ساتھ ہیں۔

default

اس سابق فرانسیسی نو آبادی میں حالیہ صدارتی انتخابات متنازعہ ہوجانے کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق انتخابات کے بعد سے 173 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ویسٹ افریقن بینک نے متنازعہ صدر باگبو کی انتظامیہ کی حکومتی فنڈز تک رسائی روک دی ہے اور ان کے مخالف صدارتی امیدوار الاسانے وتارا کو مالی وسائل تک رسائی کی اجازت دے دی ہے۔ عالمی بینک پہلے ہی باگبو انتظامیہ کے لئے فنڈنگ روک چکا ہے۔ عالمی بینک نے اس مسلم اکثریتی افریقی ملک کو 800 ملین ڈالر کی امداد کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔

Elfenbeinküste Laurent Gbagbo Flash-Galerie

متنازعہ صدر لوراں باگبو

ملکی الیکشن کمیشن کی جانب سے 28 نومبرکے انتخابات میں وتارا کی جیت کا اعلان کیا گیا تھا تاہم باگبوکے حامیوں نے نتائج کو مسترد کردیا تھا۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور افریقی یونین بھی متنازعہ صدر باگبوکو تسلیم نہیں کر رہے اور ان پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ وتارا نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ عالمی طاقتیں انہیں اقتدار دلوانے کے لئے طاقت کا استعمال کر سکتی ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد فوج کی جانب سے متنازعہ صدر لوراں باگبو کی پشت پناہی کا اعلان کیا گیا ہے۔

متنازعہ صدر پہلے ہی آئیوری کوسٹ میں موجود اقوام متحدہ اور فرانس کے امن دستوں کو ملک چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں۔ ان کا الزام ہےکہ یہ دستے ان کے مخالف امیدوار کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے آئیوری کوسٹ میں متعین امن دستوں کے دس ہزار اہلکاروں کی مدت تعیناتی میں توسیع کا اعلان کردیا ہے۔ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ امن دستوں کی استعداد بڑھانے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔

مالی وسائل کے انجماد اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے پیش نظر آئیوری کوسٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ خانہ جنگی کے خدشات ابھر رہے ہیں۔ باگبو انتظامیہ کی وزارت خزانہ کا دعویٰ ہےکہ رواں ماہ حکومتی ملازمین کی تنخواہیں وقت پر ادا کردی گئی ہیں اور تاجروں کا حکومتی اداروں پر اعتماد قائم ہے۔

Elfenbeinküste UN Soldaten

امن دستے میں شامل اہلکار

2002ء اور 03کی خانہ جنگی کے بعد سے آئیوری کوسٹ دو حصوں میں منقسم ہے۔ حالیہ انتخابات سے امید تھی کہ ملک کو دوبارہ متحدہ کیا جاسکے گا مگر صورتحال ابتری کی جانب گامزن ہے۔

کافی اور چاکلیٹ کے بنیادی عنصر کاکاؤ کی پیداوار کے حوالے سے سرفہرست یہ ملک مغربی افریقہ کا خوشحال ترین ملک تصور کیا جاتا ہے۔ فرانس نے آئیوری کوسٹ میں موجود اپنے 13ہزار شہریوں کو وہاں سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمنی اور برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو آئیوری کوسٹ کا سفر نہ کرنے کا کہا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM