1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہم دشمن نہیں: پاکستانی تارک وطن کا اسلاموفوبیا سے متعلق موقف

آزادی، برداشت اور فہم و ادارک کسی ایک ثقافت کی میراث نہیں، تاہم مانچسٹر حملوں کے بعد ایک بار پھر نشانہ وہ افراد تھے، جنہیں یکسر فراموش کر دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کے لیے فرہاد مرزا کا خصوصی مضمون:

مانچسٹر حملوں کے بعد برطانیہ اور یورپ بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ اسلام مغربی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ جب والدین اپنے بچوں کی لاشیں ایک ایسے حملہ آور کی کارروائی کی وجہ سے دیکھتے ہیں، جو قرآن سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرتا ہو، تو ان کی جانب سے ایسے دعوے فطری ہیں۔ مگر کیا واقعی یہی اسلام ہے؟

میں ایک پاکستانی ہوں، جو مغربی دنیا کا باسی ہے۔ ظاہر ہے مجھے ہر سانحے، جیسے گزشتہ ہفتے مانچسٹر میں کیے گئے حملے کے بعد اس خوف کا سامنا رہتا ہے کہ کہیں انسانوں کو تقسیم کر دینے والے بیانیے مزید تقویت نہ پا جائیں۔ میں اسلام سے خوف کے بیانیوں کی سیاست سے بھی واقف ہوں اور ان لبرل افراد کی ان کاوشوں سے بھی، جو ایسے حالات میں بھی مہاجرین اور تارکین وطن کے دفاع کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔

مگر میں مذہبی شدت پسندی سے بھی آگاہ ہوں، جہاں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی عورت ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ شدت پسندی ہی ہے، جس کے تحت توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزام کے تحت کسی طالب علم کو مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ یہ شدت پسندی ہی ہے، جو ایک اسکول کے 132 زیر تعلیم بچوں کا قتل کرواتی ہے۔

متعدد مسلم ممالک میں مرکزی ریاستی دھارا مذہبی شدت پسندوں سے متاثر ہے، اس لیے یہاں لوگوں کی جانب سے مجھ سے کیے جانے والے سوالات کی وجہ اور ان کا تذبذب میں سمجھ سکتا ہوں، جو مجھ سے کہتے ہیں کہ مسلمان کیا چاہتے ہیں؟ یا اگر ہم انہیں اپنے ملک میں آنے دیتے ہیں، تو کیا وہ ہمارے ساتھ ایسا ہی کریں گے؟

ظاہر ہے ان کی یہ تشویش بجا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اس تنقید کا کوئی واضح جواب نہیں دیا جا سکتا۔ جی ہاں، بہت سے مسلم معاشروں میں ترقی پسندانہ سیاست کا فقدان ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام ترقی پسندی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

Großbritannien Manchester Victoria Railway Station (Imago/PA Images/O. Humphreys)

مانچسٹر حملے کے بعد برطانیہ بھر میں سیکورٹی انتہائی الرٹ کر دی گئی ہے

دہشت گرد کن کو گہنا رہے ہیں؟

لوگوں کے مذہبی اعتقادات ان کے ذاتی تجربات سے نمو پاتے ہیں۔ اس لیے یہ طے ہونا تقریباﹰ ناممکن ہے کہ کوئی مذہبی اعتقاد کس طرح کی اخلاقی اقدار وضع کرتا ہے۔

سن 2014ء میں شدت پسندوں نے پاکستان میں ایک اسکول میں گھس کر 132 بچوں کو قتل کر دیا اور مارے جانے والے یہ بچے بھی مسلمان گھرانوں ہی کے چشم و چراغ تھے، یعنی مرنے اور مارنے والے دونوں ہی مسلمان تھے۔

دہشت گردی ہمیں تشدد کے ذریعے خوف زدہ کر کے ہماری ہی سوچوں کو ہمارے خلاف کر دینے کا نام ہے۔ اسرائیلی مصنف یووال ہراری نے برطانیہ کے ’دی گارڈین‘ اخبار میں اپنے ایک مضمون میں اسے ’تھیٹر آف ٹیرر‘ یا ’دہشت کا تماشہ‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے کچھ لوگ نمایاں ہو جاتے ہیں، مگر بہت سے لوگ معاشرتی سطح پر گم بھی ہو جاتے ہیں یا قطعی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

اس لیے ہمیں دیکھنا یہ ہو گا کہ دہشت گردی کسے گُم کر رہی ہے؟ موجودہ حالات میں تو یہ دہشت گردی امن پسند مسلمانوں کو ہی منظرنامے سے ہٹاتی جا رہی ہے۔ وہ جو دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وہ جو اعتدال پسند اسلام کی وکالت کرتے ہیں، انہی کی بات سننے والے اب زیادہ نہیں ہیں۔