’ہم جنس پرستی پر غيروں سے نہيں، اپنوں سے ڈر ہے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 24.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ہم جنس پرستی پر غيروں سے نہيں، اپنوں سے ڈر ہے‘

جرمنی ميں اِن دنوں پناہ گزينوں کے کيمپوں ميں گزر بسر کرنے والے ہم جنس پرستوں کو ديگر مہاجرين کی جانب سے تشدد کا سامنا ہے۔ يہ افراد اسلام مخالفين سے نہيں بلکہ ديگر مسلمانوں ہی سے خوفزدہ ہيں۔

بيس سالہ شامی پناہ گزين احمد سليمان اگر اپنے آبائی ملک ميں ہم جنس پرست ہونے کا اعتراف کر ليتا، تو ممکنہ طور پر اُس کا سر قلم کر ديا جاتا۔ شام اور عراق ميں دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے زير قبضہ علاقوں ميں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے۔ ايسے افراد کے يا تو سر قلم کر ديے جاتے ہيں يہ انہيں سنگسار کيا جاتا ہے۔ ايسی ہی کسی سزا سے بچنے کے ليے احمد سليمان نے جرمنی ميں پناہ لينے کا فيصلہ کيا۔

جرمنی آمد پر سليمان کو ڈريسڈن ميں پناہ گزينوں کے ايک کيمپ منتقل کر ديا گيا۔ يہ وہی جرمن شہر ہے، جسے اسلام مخالف تنظيم پيگيڈا کا گڑھ قرار ديا جاتا ہے تاہم ڈريسڈن ميں سليمان پر پتھر پھيکنے يا اُسے تشدد کا شکار بنانے والے شہر کے رہائشی نہيں بلکہ اُس کے اپنے ہم وطن ہيں، جنہيں اُس کے ہم جنس پرست ہونے پر اعتراض ہے۔

احمد سليمان پيگيڈا سے واقف ہے تاہم اُسے اِس تنظيم سے کوئی خوف نہيں۔ ڈر تو اُسے مہاجرين کے کيمپوں ميں ديگر مسلمانوں سے لگتا ہے۔ احمد نے بتايا کہ ايک مرتبہ کيمپ کے ديگر رہائشيوں نے اُسے اور اُس کے دو ساتھيوں رامی قطيفان اور يوسف الدوری کو مردانہ ٹوائلٹ سے دھکيل کر زنانہ ٹائلٹ بھيج ديا۔ اُن سے کہا گيا کہ وہ ’اصل مرد‘ نہيں ہيں۔

ان تينوں ہم جنس پرستوں کو ديگر واقعات ميں بھی جسمانی اور زبانی تشدد کا نشانہ بنايا گيا ہے۔ شام ہی سے تعلق رکھنے والے رامی قطيفان بتاتے ہيں کہ کبھی کبھی اُنہيں صبح کے پانچ بجے تک سونےنہیں دیا جاتا اور عورتوں کی طرح رقص کرنے پر مجبور کيا جاتا۔

کافی ہلکے لہجے ميں بات چيت کرنے والا پچيس سالہ عراقی شہری الدوری بتاتا ہے کہ جرمنی آمد کے بعد پہلی عارضی رہائش گاہ ہی ميں اُسے اور اُس کے ساتھيوں کو پتھر مارے گئے تھے۔ الدوری نے بتايا، ’’اپنے ملک ميں مجھے مختلف انداز سے چلنا پڑتا اور اپنی آواز تبديل کرنا پڑتی۔ بس يہ سمجھيں کہ دو مختلف ناموں اور موبائل فون نمبروں کے ساتھ ميں دو زندگياں گزار رہا تھا۔‘‘ اُس نے بتايا کہ جرمنی ميں مہاجرين کے کيمپوں ميں يہ سب دوبارہ شروع ہو گيا۔

جرمنی کے مختلف شہروں ميں ميں ہم جنس پرستوں کا ايک سالانہ تہوار منعقد ہوتا ہے، جسے ’کرسٹوفر اسٹريٹ ڈے‘ کہا جاتا ہے۔ ڈريسڈن ميں جب اِس تہوار کے منتظم رونالڈ سينکر کو مہاجرين کے کيمپوں ميں ہم جنس پرستوں کے حال احوال کا پتہ چلا، تو اُنہوں نے متاثرين کو وہاں سے منتقل کرانے ميں مدد فراہم کی۔ سينکر نے بتايا کہ اُن کا گروپ اِس وقت گيارہ ايسے افراد کو پناہ دے رہا ہے، جنہيں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے حملوں کا خوف ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ يورپی يونين نے ہم جنسی پرستی کے سبب تشدد کا شکار بننے والوں کے ليے يورپ ميں سياسی پناہ کی اجازت 2013ء ميں دے دی تھی۔ جرمنی ميں ہم جنس پرستوں کی فيڈريشن (LSVD) کے مطابق اس وقت 75 ممالک ميں ہم جنس پرستی جرم مانی جاتی ہے۔ ايران، يمن، سوڈان اور سعودی عرب جيسے ممالک ميں اس جرم کی سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔

شامی پناہ گزين احمد سليمان اِن دنوں اپنے ديگر ساتھيوں کے ہمراہ ايک مختلف رہائش گاہ ميں رہ رہا ہے۔ يہ سب ايک مترجم کی مدد سے ايک دوسرے سے بلا خوف و خطر بات چيت کرتے ہيں۔ عرب معاشرے ميں ہم جنس پرستی کے موضوع پر بات چيت کو بھی اچھا نہيں مانا جاتا۔