’ہم جنس پرستی اسلام سے متصادم نہیں‘: جنوبی افریقی امام مسجد | معاشرہ | DW | 01.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ہم جنس پرستی اسلام سے متصادم نہیں‘: جنوبی افریقی امام مسجد

جنوبی افریقی امام مسجد محسن ہینڈرکس برسوں سے اپنی اس متنازعہ سوچ کی وکالت کر رہے ہیں کہ ہم جنس پرستی اسلام سے متصادم نہیں بلکہ اس کا حصہ ہے۔ وہ اس بات کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں کہ مرد اور خواتین مل کر نماز پڑھیں۔

Südafrika homosexueller Imam in Kapstadt (Getty Images/AFP/R. Bosch)

محسن ہینڈرکس اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ مرد اور خواتین مل کر نماز پڑھیں

اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے لیے اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں سیرتان سینڈرسن نے لکھا ہے کہ محسن ہینڈرکس جنوبی افریقہ کی ایک مسجد میں امامت کرانے والے ایک ایسے امام ہیں، جو گزشتہ قریب 20 برسوں سے اسلام کے بارے میں پائی جانے والی ’غلط فہمیوں‘ کو دور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کی ذات کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ ذاتی طور پر مخصوص نوعیت کے جن جنسی اور سماجی رویوں کو درست قرار دیتے ہوئے ان کی وکالت کرتے ہیں، وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت کے لیے بالکل ناقابل قبول ہیں۔

اس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ محسن ہینڈرکس ہم جنس پرستی کو اسلام اور اس کے مذہبی پیغام کے منافی یا اس سے متصادم تصور نہیں کرتے بلکہ ہم جنس پرستی کو اسلام کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ہینڈرکس نہ صرف مردوں اور خواتین کو مل کو نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

ہم جنس پرست مردوں اور خواتین کو اس وقت دنیا کے کئی ایسے مسلم اکثریتی ملکوں میں بہت مشکل حالات کا سامنا ہے، جہاں مروجہ ریاستی قوانین میں اسلام کی روایتی طور پر سخت مذہبی تعلیمات اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان ملکوں میں سے آٹھ مسلمان ریاستیں تو ایسی بھی ہیں، جہاں ہم جنس پرستی ایک قابل تعزیر جرم ہے اور اس کی سزا موت ہے۔

محسن ہینڈرکس کو اب تک اپنی مذہبی سوچ اور ذاتی جنسی رویوں پر سرعام عمل پیرا رہنے کی وجہ سے کئی بار قتل کی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔ اس کے برعکس ہینڈرکس، جو ہم جنس پرست مردوں اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم جنس پرست مسلمان مردوں اور عورتوں کے حقوق کو اس طرح تسلیم کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق باعمل مسلمان بھی رہ سکیں۔

Imam Muhsin Hendricks (Getty Images/AFP/R.Bosch)

محسن ہینڈرکس خود بھی ہم جنس پرست ہیں

’اندرونی حلقہ‘

قریب دو عشروں سے اپنی اس سوچ پر عمل پیرا رہتے ہوئے محسن ہینڈرکس اب تک جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے نواح میں، جہاں وہ ایک مسجد کے امام ہیں، اپنے حامیوں کا ایک ایسا چھوٹا سا حلقہ بھی قائم کر چکے ہیں، جس کا نام Inner Circle یا ’اندرونی حلقہ‘ ہے۔

اس تنظیم کے ذریعے وہ سماجی طور پر تنقید اور تعصبات کا سامنا کرنے والے ہم جنس پرست مسلمان مردوں اور خواتین کی مشاورت کرتے ہوئے ان کی اپنے ذاتی جنسی رویوں اور جنسی ترجیحات کو اپنی مذہبی سوچ سے ہم آہنگ بنانے میں مدد بھی کرتے ہیں۔

محسن ہینڈرکس کا قائم کردہ ’اِنر سرکل‘ قریب 20 برسوں سے فعال ہے اور اس کا صدر دفتر کیپ ٹاؤن کے مضافات میں واقع ایک جنوبی قصبے ’وائن برگ‘ میں ہے۔ اس ’اندرونی حلقے‘ میں ہم جنس پرست مرد اور خواتین دونوں ہی شامل ہیں لیکن یہ صرف ایسے مردوں اور خواتین تک ہی محدود نہیں ہے۔

محسن ہینڈرکس نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’مجھ پر واضح یہ ہوا کہ اسلام کے نام پر جو بہت سی ناانصافیاں کی جاتی ہیں، ان میں سے مسلمان ہم جنس پرستوں کے بارے میں بہت منفی سوچ محض ایک پہلو ہے، جس کا کئی طرح کے دیگر تعصبات کی طرح تدارک کیا جانا چاہیے۔‘‘

ہینڈرکس نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ ہماری تنظیم میں بہت سے ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں، جو ہم جنس پرست نہیں ہیں۔ جب میں نے اسلامی نقطہ نظر سے ہم جنس پرستی کے مذہب سے متصادم نہ ہونے کی وکالت شروع کی، تو مجھے فوراﹰ ہی علم ہو گیا تھا کہ میں نے ایک بہت مشکل کام شروع کیا ہے۔ میں نے مروجہ اسلامی روایات کے پیچھے کار فرما پدر شاہانہ ذہنیت کو چیلنج کر دیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔‘‘

Imam Muhsin Hendricks EINSCHRÄNKUNG (The Inner Circle)

’ہم جنس پرستی اسلام سے متصادم نہیں بلکہ اسلام ہی کا لازمی حصہ ہے‘، محسن ہینڈرکس

’بڑی غلطی‘

محسن ہینڈرکس، جو خود بھی ہم جنس پرست ہیں، کے دادا بھی ایک امام مسجد تھے، جو مسلمانوں کی اکثریتی سوچ کی طرح ہم جنس پرستی کے شدید مخالف تھے۔ ہینڈرکس کو اپنی نوجوانی کے عرصے میں خود اپنے گھر پر بھی متعصبانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ کہتے ہیں، ’’میرے دادا منبر سے اپنے خطبات میں کہا کرتے تھے کہ ہم جنس پرست افراد دوزخ میں جائیں گے۔ مجھے یہ بھی کہا گیا کہ شادی کر لو، تو ہم جنس پرستانہ سوچ ختم ہو جائے گی۔ میں نے شادی کی تو صرف ایک ہی سال میں مجھ پر واضح ہو گیا کہ یہ شادی کرنا بہت بڑی غلطی تھی۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔

’مکالمت کا راستہ‘

محسن ہینڈرکس اپنی ہم جنس پرستی اور ہم جنس پرستی کی حامی مذہبی سوچ کو اس موضوع پر مکالمت کے لیے ایک ممکنہ راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خود کو ایک ایسی ’پھیلتی ہوئی تحریک‘ کا حصہ سمجھتے ہیں، جو ایک مذہب کے طور پر اسلام کے موجودہ عالمی تصور کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

لیکن اس سے پہلے ہینڈرکس اور ان کے ہم خیال اور ہم عقیدہ افراد کو اپنے ہم مذہب مسلمانوں کو اس بات کا قائل کرنا پڑے گا کہ محسن ہینڈرکس جس طرح کے خیالات کا پرچار کرتے ہیں، وہ خود ان کے اپنے مطابق کسی ایسے ’امام‘ کی سوچ نہیں ہے، جو ’صحیح راستے سے بھٹک‘ گیا ہو۔

حالیہ برسوں میں کئی معاشروں میں ہم جنس پرست مسلم مرد اور خواتین اپنے بارے میں زیادہ کھل کر بولنا شروع کر چکے ہیں۔ لیکن آیا ان کی یہ سوچ اتنی مؤثر ہو چکی ہے کہ مستقبل میں اسلام میں ایک مذہب کے طور پر اصلاحات کی بات کی جا سکے، اس سوال کا جواب انتہائی مشکل اور ابھی تک بظاہر بہت دور کی بات معلوم ہوتی ہے۔

DW.COM