1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہم اپنے حملے الگ سے کریں گے‘ افغان طالبان میں پھوٹ

ملا عمر کی رحلت کے اعلان کے بعد افغان طالبان میں قیادت کے مسئلے پر بحران پیدا ہو گیا تھا۔ جہاں چند روز پہلے ان اختلافات کے خاتمے کی نوید تھی، وہاں اب ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ طالبان دو گروپوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں۔

بیس ستمبر ہفتے کے روز طالبان رہنما ملا عبدالمنان نیازی نے بتایا ہے کہ طالبان کے موجودہ لیڈر ملا منصور اختر اور اُن کے مخالف کمانڈروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ملا عبدالمنان نیازی طالبان کے موجودہ لیڈر ملا اختر منصور کے مخالف گروپ کے ترجمان ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ طالبان کے رہنما ملا عمر کے انتقال کی خبر عام ہونے کے بعد سے طالبان، قیادت کے حساس معاملے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے پاکستانی شہر پشاور سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملا منصور کے مخالف نمایاں کمانڈروں میں ملا عبدالقیوم ذاکر، ملا حسن رحمانی، ملا محمد رسول اور ملا عبدالرزاق نمایاں ہیں۔ ملا ذاکر امریکی جیل گوانتنامو بے میں قید رہ چکے ہیں جبکہ ملا محمد رسول اور ملا حسن رحمانی کے اپنے اپنے مضبوط اڈے ہیں۔ ملا عبدالرزاق طالبان حکومت کے وزیر داخلہ تھے۔

مذاکرات کے ناکام ہونے کے حوالے سے ملا عبدالمنان نیازی کا کہنا تھا کہ مخالف کمانڈروں نے دو ماہ انتظار کیا کہ ملا منصور صورت حال کی حساسیت اور نزاکت کا احساس کرتے ہوئے طالبان کی قیادت سے دستبردار ہو جائیں گے اور سپریم کونسل سوچ بچار سے ایک نئے لیڈر کا انتخاب کر لے گی لیکن ملا منصور ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ملا نیازی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے افغانستان میں اسلامی ریاست قائم کرتے ہوئے بے بہا قربانیاں دی ہیں۔ اِس بیان پر ملا منصور کے کسی نمائندے کی جانب سے کوئی تبصرہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

Taliban Chef Mullah Achtar Mansur

افغان طالبان کے موجودہ رہنما ملا منصور

ملا منصور کے مخالف کمانڈروں کے ترجمان کے مطابق جو بھی مسلح کارروائیاں ملا منصور کی قیادت میں جاری ہیں، وہ جہاد میں شمار نہیں کی جا سکتیں اور اب وہ ایسی سرگرمیوں کی کھل کر مخالفت کریں گے۔ ملا عبدالمنان نیازی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا مخالفین ملا منصور پر حملے بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ ملا منصور کے مخالف دھڑے کے کمانڈر اب اپنے حامیوں کو حکومتی مقامات پر حملے کی ہدایات جاری کیا کریں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ صورت حال افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے حامیوں کو پریشان کرنے کے علاوہ اُنہیں بڑی حد تک کمزور بھی کر سکتی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دو دھڑے کُھل کر ایک دوسرے کے سامنے بھی آ سکتے ہیں۔

 ملا عمر کے بیٹے اور بھائی نے بھی گزشتہ ہفتے کے دوران ملا منصور کی اطاعت کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے ابتدا میں ملا منصور کی قیادت کی مخالفت کی تھی۔ ملا نیازی کے مطابق ملا منصور نے ملا عمر کے بھائی کو ملنے والے فنڈ بند کرنے کی دھمکی دی تھی اور اِس پر وہ بیعت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ یہ مالی تنازعہ ہے اور اِس کا مذہب یا مذہبی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ویسے بھی گزشتہ بیس برسوں میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب اور بھائی ملا منان نے افغان جہاد میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔