1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہم امن معاہدے کو نہیں مانتے‘ کولمبیا میں ریفرنڈم کا نتیجہ

کولمبیا کے عوام نے ریفرنڈم میں حکومت اور فارک باغیوں کے مابین طے پانے والے امن معاہدے کو معمولی برتری کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ اب اس لاطینی امریکی ملک میں امن عمل کے حوالے سے انتہائی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

کولمبیا میں اتوار دو اکتوبر کو کرائے جانے والے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 50.23 فیصد عوام نے فارک باغیوں کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی مخالفت میں جبکہ 49.76 فیصد نے اس کے حق میں ووٹ ڈالے۔ یہ تقریباً 59 ہزار ووٹوں کا فرق بنتا ہے۔ صدر سانتوس نے اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ریفرنڈم کے اس نتیجے کے بعد میں پیر کو تمام سیاسی جماعتوں سے ملاقات کروں گا اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات کروں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اتنی آسانی سے ہار نہیں مانے گے، ’’جب تک میرے پاس اختیار ہے، میں امن کی تلاش جاری رکھوں گا۔‘‘سانتوس نے مزید کہا کہ فریقین ابھی بھی فائربندی پر راضی ہیں اور دوبارہ سے دشمنی کی جانب پلٹنے کا کسی کا کوئی ارادہ نہیں۔

اس نتیجے پر فارک کمانڈر رودریگو لوندونیو عرف ’ٹیموشینکو‘ نے کہا کہ ان کی تنظیم مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے پر ابھی بھی تیار ہے، ’’فارک تنظیم ریفرنڈم کے اس نتیجے کے باوجود بھی امن کی کوششوں میں مصروف رہے گی اور امن کی ہی فتح ہو گی۔‘‘ اس معاہدے پر فی الحال عمل نہیں کیا جا سکتا اور اس نتیجے کو صدر خوآن مانوئیل سانتوس کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ریفرنڈ سے قبل کرائے جانے والے تمام جائزوں میں کہا گیا تھا کہ ایک تہائی ووٹوں سے اس امن معاہدے کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ چار سال جاری رہنے والے امن مذاکرات کے بعد پیر 26 ستمبر کو ہی اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

گزشتہ  ہفتےکولمبیا کے صدر خوآن مانوئیل سانتوس اور فارک کمانڈر ’ٹیموشینکو‘ نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ کارٹاجینا میں منعقدہ اس تقریب میں ڈھائی ہزر غیر ملکی مندوبین کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔ 1964ء میں شروع ہونے والی کولمبیا کی یہ خانہ جنگی دنیا کے طویل ترین اور خونریز ترین مسلح تنازعات میں سے ایک تھی۔ ان برسوں کے دوران کی جانے والی کارروائیوں اور جوابی حملوں میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسّی لاکھ  افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔