1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'ہمیں کیا برا تھا مرنا ، اگر ایک بار ہوتا‘

گزشتہ شب پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون شریف میں واقع صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں 75 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس حملے کی مذمت کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس عالمی ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،’’ اقوام متحدہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس حملے میں ملوث افراد کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،’’ عبادت میں مصروف پر امن افراد پر ان کے انتہائی مقدس مقام پر حملہ کرنا انتہائی شرمناک اور بزدلانہ عمل ہے۔ امریکا اس مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہے۔‘‘

برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ برطانیہ پاکستان اور عراق دونوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھڑا ہے۔‘‘

 لعل شہباز قلندر کے مزار پر کیے جانے والے خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ سیہون سب سے زیادہ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ صحافی، سیاست دان اور عام شہری اس واقعہ کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔

کئی افراد نیشنل ایکشن پلان کے کمزور عمل در آمد کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس حملے کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر افغانستان کے ساتھ سرحد بند کر دی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، ’’ قوم کے خون کے ہر قطرے کا انتقام لیا جائے گا اور بہت جلد لیا جائے گا، اب کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔‘‘

سیاسی جماعت اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ طورخم بارڈر کی بندش پاکستان کی کمزور حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ سیہون کے غصے کو ہزاروں کلومیٹر دور افغانستان پر کیوں نکالا جا رہا ہے ؟ کیا افغانستان نے نیشنل ایکشن پلان کے عمل در آمد کو روکا تھا ؟‘‘

صحافی طلعت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہم سب کو عزم اور ارادے کے ساتھ متحد ہونا چاہیے۔ یہ وقت سیاست اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کا نہیں ہے۔‘‘

آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹ میں لکھا گیا کہ افغان سفارت خانے کے کچھ افسران کو جی ایچ کیو طلب کیا گیا اور انہیں 76 دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے طلعت حسین نے  لکھا کہ، ’’جی ایچ کیو اب براہ راست کابل سے رابطہ کر رہا ہے۔ اگر کابل نے دہشت گرد پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو ؟ پھر پاکستان کے پاس بہت ہی کم امکانات بچیں گے۔‘‘ 

مشرف زیدی نے لکھا،’’پاکستان اور افغانستان کے دشمن ایک ہیں جنہیں سب سے زیادہ خوشی دونوں ممالک میں کڑواہٹ اور دوریاں بڑھا کر ہوتی ہے۔‘‘

سیہون حملے کے حوالے عمار مسعود نے لکھا،’’ غالب نے کہا ہے،  ’ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟ نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا۔‘ اب مزاروں پر ہی جنازے اٹھیں تو کوئی کیا کرے؟‘‘

فریحہ عزیز نے لکھا، ’’ہمیں کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا۔‘‘

سیہون حملے سے قبل اسی ہفتے  لاہور، مہمند ایجنسی، پشاور، کوئٹہ اور آواران میں بھی دہشت گرد حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں قریب 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔