1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

#ہم_نہیں_بھولیں_گے

آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

default

مارنے آیا تھا جو ہمیں، ہمیشہ کے لیے زندہ کر گیا

اس حملے میں 132 طلبہ سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے ایک برس بعد طلبہ، والدین اور سوشل میڈیا صارفین ہلاک شدگان کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث موضوع بنا ہوا ہے۔ ٹوئٹر ہینڈل پر اس سانحے سے متعلق کئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں جیسا کہ HonouringAPSVictims، RememberingAPS اور NeverForget۔

فیس بک پر بھی کئی افراد اپنی رائے کا اظہار کر تے رہے۔ ٹوئٹر کے ایک صارف نے ٹوئٹ کیا، "مارنے آیا تھا جو ہمیں، ہمیشہ کے لیے زندہ کر گیا" جبکہ راجہ علی نامی ایک صارف نے لکھا، ’’کچھ نشان کبھی مٹائے نہیں جا سکتے۔‘‘ ٹوئٹر پر حاجرہ آفریدی نامی ایک پاکستانی خاتون نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’ہماری مسکراہٹ تمہاری بندوق سے زیادہ مضبوط ہے۔ 16 دسمبر کے روز ہم ہلاک ہونے والے بچوں، ان کے والدین اور اساتذہ کی عظمت کو سلام کرتے ہیں۔‘‘

-

پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

پاکستان کی فوج نے اس موقع پر ہلاک ہونے والے بچوں کی یاد میں خصوصی گانے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کیے۔ سب سے مقبول گیت ’’ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ ثابت ہوا۔ اس گیت میں ننھے بچے دہشت گردوں کا تعلیم کے ذریعے مقابلہ کرنے کا پیغام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ہی صارفین کی ایک بڑی تعداد نے پاکستانی فوج کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور ہیش ٹیگ AskGHQonAPS کافی دیر تک ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے نعمان الحق خان نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’مولانا عبدالعزیز نے پشاور اسکول حملے کی مذمت نہیں کی اور داعش کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ اس کے باوجود بھی وہ کھلے عام پھر رہے ہیں۔ کوئی انہیں کیوں نہیں پکڑتا؟" ٹوئٹر پر ہی راجہ علی نے ٹوئٹ کیا،’’ ہمیں نغمے، تمغے اور نہ ہی اسکول اپنے بچوں کے نام پر چاہییں، ہمیں صرف طالبان کے خلاف کارروائی چاہیے۔‘‘

فیس بک کے ایک صارف فیصل کپاڈیا نے لکھا، ’’ راج تحسین پیش کرنے کا تب تک کوئی فائدہ نہیں جب تک ان بچوں کے قاتلوں کوکیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔‘‘