1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہمسایوں سے لاتعلقی نہیں چاہتے، بھارتی وزیر کا انٹرویو

بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے تعلقات سے لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ ان ملکوں کے حالات کے اثرات بھارت میں بھی نظر آتے ہیں۔ بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ششی تھرورکی ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو۔

default

ممبئی حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اب تک موجود ہے

بھارت کی نو منتخب حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور کی کرسی سنبھالنے والے ششی تھرور اس سے قبل اقوام متحدہ میں بھارت کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ تھرور کو بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹیری جنرل کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں پاکستان کا نام لئے بغیر اُنہوں نے بتایا: ’’بھارت اپنی سرحد پر پائے جانے والےمسائل سےلاتعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ یہ اکثر ہمارے ملک پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔‘‘

اُنہوں نے مزید کہا کہ مشکلات کے شکار پڑوسی ممالک سے نہ صرف پناہ گزین بھارت کا رخ کرتے ہیں بلکہ دہشت گرد بھی ہماری سرزمین پر پہنچنے میں کامیا ب ہوجاتے ہیں۔

بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے یقین دہانی کرائی کہ خطے میں امن کے قیام کے لئے بھارت اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ تھرور کے مطابق بھارت کی خواہش ہے کہ برصغیر کے ممالک میں لوگ اپنے اپنے ملکوں میں جمہوری نظام حکومت کی بہترین صورتحال میں زندگی گزاریں اور ان ممالک میں حقوق انسانی کا احترام کیا جائے۔ یہ خواہش کس حد تک زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہے، اِس بارے میں ششی تھرور کہتے ہیں: ’’ابھی یہ خواہش ضرور ایک فریب نظر معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ ہمیں کن مشکلات کا سامنا رہا ہے مگر بھارت کے اپنے ہر ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رہے ہیں۔ ہمسایہ ممالک میں استحکام اور خوشحالی لانے اور اُن کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے قیام کے لئے ہم جو بھی کرسکتے ہیں کریں گے۔‘‘

نئی دہلی میں ہماری ساتھی سنندہ راؤ کے ساتھ اپنے اِس انٹرویو میں بھارتی وزیر مملکت نے کہا کہ ہمسایہ ممالک میں خوشحالی خود بھارت کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اپنے اِس انٹرویو میں ششی تھرور نے یورپی یونین کے ساتھ بھارت کے مزید اچھے روابط کی بھی اُمید ظاہر کی۔

’’کسی بھی نوعیت کا کوئی ایسا موضوع نہیں ہے کہ جس پر بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو۔ مجھے پوری توقع ہے کہ اس حکومت کے آئندہ چند برسوں میں بھارت کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بہت مثبت تبدیلیاں اور رجحانات دیکھنے کو ملیں گے۔‘‘