1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ہمالیہ کے تیزی سے پگھلتے گلیشئرز اور بڑھتے خطرات

موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک بنگلہ دیش اور بھارت کا انحصار ہمالیہ کے پہاڑوں سے آنے والے دریاؤں کے پانی پر ہے۔ تاہم ہمالیہ کے گلیشئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے ان دونوں ملکوں میں خشک سالی کا خطرہ ہے۔

default

کوہ ہمالیہ کا کھمبو گلیشئر

یہ بات برطانیہ میں انشورنس کمپنیوں کو مشاورت فراہم کرنے والے ادارے میپل کرافٹ کے ایک تازہ جائزے میں بتائی گئی ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں واقع علاقہ لداخ سطحِ سمندر سے ساڑھے تین ہزار سے لے کر ساڑھے سات ہزار میٹر تک بلند ہے۔ یہاں کوئی غیر معمولی بارش نہیں ہوتی اور اسی لئے اِس سال چھ اگست کی رات کو لداخ کے دارالحکومت لیہہ کے قریب بسنے والے انسانوں کو جس شدید بارش اور طوفان کا سامنا کرنا پڑا، وہ اُن کے لئے بہت ہی غیر متوقع اور اچانک تھا۔

لداخ کا ایک کسان کرما یمیانگ بتاتا ہے:’’اُس رات موسم بہت ہی غیر معمولی تھا۔ آسمانی بجلی چمکنے سے پورا آسمان روشن ہو جاتا تھا، بادل گرجتے تھے تو پہاڑوں تک کو ہلا کر رکھ دیتے تھے اور پھر ایک دم شدید بارش شروع ہو گئی۔ یہ بارش زیادہ دیر تک جاری نہیں رہی لیکن شدید اتنی تھی کہ مَیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘‘

Indien Flut

اس سال اگست میں آنے والے اچانک سیلاب کے بعد لداخ کے دارالحکومت لیہہ کے قریب کا ایک منظر

یہ شدید بارش لداخ کے دارالحکومت لیہہ سے کوئی دس کلومیٹر دور واقع چھوٹے سے قصبے چوگ لمزار پر برسی، جہاں کرما یمیانگ کا گھر تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ اور اُس کا کنبہ بال بال بچ گئے:’’اچانک دروازہ زور سے کھل گیا، پانی اور کیچڑ کا ایک ریلا اندر آ گیا۔ ہمارے اوسان خطا ہو گئے، ہم بھاگنا چاہتے تھے لیکن جاتے تو کہاں جاتے؟ ہر طرف پانی، کیچڑ اور پتھر تھے۔ ہم چھت پر چڑھ گئے لیکن ڈر یہی تھا کہ آیا ہمارا گھر سیلاب کے آگے ٹِک سکے گا؟ ہم انتہائی خوفزدہ تھے اور گڑگڑا کر دیوتاؤں سے اپنی جان کی امان مانگ رہے تھے۔‘‘

اُن لمحات میں کرما یمیانگ کا تمام اثاثہ اور ساز و سامان کئی میٹر بلند کیچڑ تلے دب کر تباہ ہو گیا۔ اِس شدید بارش اور سیلاب کے باعث تقریباً دو سو انسان ہلاک ہوئے۔ ساتھ ساتھ بجلی اور ٹیلی فون کا سارا نظام بھی مفلوج ہو گیا۔

بھارتی ماہرینِ موسمیات کا دعویٰ ہے کہ لداخ میں آنے والا یہ غیر معمولی طوفانِ بادو باراں عالمگیر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی ایک کڑی ہے۔ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہمالیہ اور ہندو کُش کے خطے کے لئے قائم بین الاقوامی تحقیقی مرکز کے مطابق ان بلند پہاڑی علاقوں میں موسم عالمی اوسَط کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ گرم ہو رہا ہے۔

Dürre in Indien Naturkatastrophen Flash-Galerie

2004ء: اڑتالیس سالہ سونا بائی احمد آباد کے قریب خشک دریائے سبرمتی کے اندر سے ہو کر گزرتی ہوئی

فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی GERES نے گزشتہ برس ہمالیہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک جامع جائزہ مرتب کیا، جس کے لئے نہ صرف لداخ میں قائم واحد موسمیاتی مرکز کے گزشتہ پینتیس برسوں کے اعدادو شمار کا تجزیہ کیا گیا بلکہ سینکڑوں دیہاتیوں سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔ اِس ایجنسی کے کارکن Samten Choephel زامٹن چوئیفل اِس جائزے کے نتائج کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:’’لداخ کے موسمیاتی مرکز کے اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ سردیوں کے موسم میں کم سے کم درجہءحرارت میں پورا ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ گرمیوں میں دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ درجہء حرارت نصف ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ گیا ہے۔‘‘

زامٹن چوئیفل کے مطابق دیہاتیوں کی اکثریت نے اِس رجحان کی تصدیق کی اور بتایا کہ اب سردیوں میں کم برف پڑتی ہے اور موسم گرم ہو گیا ہے۔ اب پھل دار درختوں پر وقت سے پہلے کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، کُوچ کر جانے والے پرندے اب دیر سے جاتے ہیں اور جہاں بلندی پر واقع کھیتوں میں پہلے تھوڑے بہت جَو ہی کاشت کئے جا سکتے تھے، وہاں اب گندم بھی اگائی جا رہی ہے۔

لداخ کے صحرائی علاقوں میں کھیتوں کو اب صرف اور صرف مصنوعی طریقے سے پانی دیا جاتا ہے۔ اب ہمالیہ کے گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں لیکن اُن کا پانی بہت تاخیر سے وادی میں پہنچتا ہے اور اسی لئے اپریل میں فصل کی کاشت کے لئے کافی مقدار میں پانی موجود نہیں ہوتا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب کسانوں کو فصلوں کی کم پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔

Gletscherschmelze im Himalaya

لداخ کا دارالحکومت لیہہ

ہمالیہ پر تحقیق کتنی تاخیر سے شروع کی گئی ہے، اِس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی گزشتہ برس ہی بھارتی حکومت نے ہمالیہ کے دامن میں واقع شہر دہرہ دون میں گلیشئرز پر تحقیق کا ایک مرکز قائم کیا ہے۔ اس مرکز سے وابستہ گلیشئرز کے سرکردہ ترین بھارتی ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر دواریکا دھوبل بتاتے ہیں:’’ہمیں جلد از جلد یہ پتہ چلانا ہو گا کہ موسمیاتی تبدیلیاں گلیشئرز پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لئے ہمیں کم از کم دس سے لے کر پندرہ برس تک برف کی سطح کا مشاہدہ کرنا پڑے گا۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ ہمالیہ کے سبھی گلیشئرز سکڑتے جا رہے ہیں۔ زیادہ تر گلیشئرز ہر سال پانچ تا دس میٹر پیچھے جاتے جا رہے ہیں۔ برف کی تہیں بھی ہر سال اوسطاً تیس سینٹی میٹر تک پتلی ہوتی جا رہی ہیں۔‘‘

بھارتی سرزمین پر تقریباً دس ہزار گلیشئرز موجود ہیں۔ دُشوار گزار اور برفیلی بلندیوں پر جا کر پیمائشیں کرنا مشکل ہے، اِس لئے دہرہ دون کے مرکز نے اہم گلیشئرز پر ایسے پیمائشی آلات نصب کئے ہیں، جو مواصلاتی سیاروں کی مدد سے خود کار طریقے سے اعداد و شمار دہرہ دون تک پہنچاتے رہیں گے۔ یہ پیمائشیں بہت اہم ہیں کیونکہ اِن گلیشئرز کا پانی زراعت کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار کے لئے بھی ضروری ہے اور کروڑوں انسان اس پر انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ: رائنر ہوئرِش / امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس