1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ہمارے ہوٹل میں ٹھہریں‘، سال کے اندر طلاق ہو گئی تو پیسے واپس

سویڈن میں ہوٹلوں کی ایک چین نے اپنے مہمانوں کو ایک اچھوتی پیش کش کی ہے، شادی شدہ جوڑے ان کی کسی بھی برانچ میں دو راتوں کے لیے ٹھہریں، اس کے ایک سال کے اندر اندر اگر جوڑے کی طلاق ہو گئی تو پیسے واپس دے دیے جائیں گے۔

آج کل کی مصروف زندگی میں خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے ایک نہایت اہم بات یہ تصور کی جاتی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں۔ سویڈن میں ہوٹلوں کی ایک چین نے اسی بات کو فروغ دینے کے لیے ایک انوکھی پیش کش کی ہے۔

’’جیون ساتھی سے بے وفائی جرم نہیں‘‘
’طلاق لو یا شوہر کی کثیرازدواجی زندگی برداشت کرو‘

بہتر ’سیکس‘ کی تبلیغ

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی سٹاک ہوم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق، ہوٹلوں کی یہ سویڈش چین اپنے رومانوی ماحول کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔ اس ہوٹل کی سویڈن کے کئی سیاحتی مقامات پر درجنوں برانچیں ہیں۔

ہوٹل انتظامیہ نے اپنے مہمانوں کے لیے ایک منفرد اور اچھوتی پیش کش کی ہے۔ اس آفر میں ہوٹل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شادی شدہ جوڑے دو راتوں کے لیے ان کے لگژری ہوٹل یا مینشن میں کمرہ لے کر ٹھہریں۔ اور اگر ان کے ہاں قیام کرنے کے ایک برس کے اندر اندر ان کی شادی ٹوٹ جائے تو جوڑے کو ان کی پوری کی پوری رقم واپس دے دی جائے گی۔

لیکن شرط یہ ہے کہ جوڑا قانونی طور پر شادی شدہ ہو اور ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں ایک ساتھ قیام کیا ہو۔ رقم واپس لینے کے لیے اپنی طلاق کے شواہد پیش کریں اور پیسے واپس لے لیں۔

Schweiz Tourismus Pool Buffet Gäste Hotel (PHOTOPRESS/Anthony Anex/Tourism Switzerland)

اس ہوٹل کی سویڈن کے کئی سیاحتی مقامات پر درجنوں برانچیں ہیں

اے ایف پی سے گفت گو کرتے ہوئے ہوٹل کی ترجمان اینا میڈسن کا کہنا تھا یہ اچھوتا اور نیا خیال ’’لوگوں کو اس بات کی اہمیت سمجھانے کے لیے ہے کہ ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ خوش گوار ماحول میں وقت گزارنا کتنا ضروری ہے۔‘‘

سویڈن میں ہوٹلوں کی اس چین کو امید ہے کہ اس طرح شادی شدہ جوڑے میں ایک دوسرے کے ساتھ اکیلے وقت گزارنے کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔ ساتھ میں انہیں یہ بھی توقع ہے کہ جب ایک جوڑا اچھے ماحول میں ایک دوسرے کو مزید جاننے کی کوشش کرے گا، تو ایک سال کے اندران کی طلاق ہو جانے کے امکانات بھی بہت کم رہ جائیں گے۔

DW.COM