1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہمارے سفارت خانے مجرموں کی پناہ گاہیں، سری لنکن وزیر خارجہ

سری لنکا کے وزیر خارجہ منگلا سماراویرا نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے بیرونی دنیا میں قائم سفارت خانے مجرموں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق کولمبو میں گزشتہ حکومت نے ان سفارت خانوں کو مجرموں کے محفوظ ٹھکانے بنا دیا۔

Flucht von Zivilisten in Sri Lanka (picture-alliance/dpa)

تامل خانہ جنگی کے آخری مہینوں میں لاکھوں شہری بے گھر ہو گئے تھے

جنوبی ایشیا کی اس جزیرہ ریاست کے دارالحکومت کولمبو سے جمعہ پانچ مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی وزیر خارجہ منگلا سماراویرا نے آج قومی پارلیمان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کی گزشتہ حکومت نے بیرونی دنیا میں قائم سری لنکن سفارت خانوں کو ’’قاتلوں، مجرموں اور خانہ جنگی کے دوران شدید نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہوں‘‘ میں بدل دیا تھا۔

Sri Lanka Besuch Steinmeier in Colombo (Reuters/D. Liyanawatte)

وزیر خارجہ سماراویرا، دائیں، موجودہ جرمن صدر شٹائن مائر کے ساتھ، فائل فوٹو

سماراویرا نے ارکان پارلیمان کو بتایا، ’’ہمارے بیرون ملک سفارت خانے بہت سے ایسے مجرموں کے محفوظ ٹھکانے بن گئے، جن میں قاتلوں کے علاوہ اندرون ملک انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو جگہ دی گئی۔‘‘

منگلا سماراویرا نے کہا، ’’ان افراد کو دراصل سابق ملکی صدر مہیندا راجاپاکسے کے دور اقتدار میں، جس میں تامل خانہ جنگی کے تنازعے کو فوجی طاقت سے حتمی طور پر کچل دیا گیا تھا، کئی طرح کے جرائم کے ارتکاب اور عشروں پرانی خانہ جنگی کے آخری عرصے میں ان کے کردار پر حکومت کی طرف سے نوازا گیا تھا۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ سری لنکن وزیر خارجہ نے ملکی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ راجاپاکسے دور میں کولمبو حکومت نے برازیل میں تعینات کیے گئے ایک نائب سفیر اور جرمنی میں سفارتی عملے کے طور پر تعینات کیے جانے والے دو افراد کو محض اس لیے سرکاری طور پر وہاں بھیجا کہ یہ افراد مشتبہ طور پر جنگی مجرم اور قاتل تھے۔

Sri Lanka Präsident Mahinda Rajapakse (picture alliance/Photoshot)

سری لنکا کے سابق صدر مہیندا راجاپاکسے

سماراویرا نے ایوان پارلیمان میں یہ بھی کہا کہ راجاپاکسے حکومت کی طرف سے برازیل میں سری لنکا کے نائب سفیر کے طور پر تعینات کیا جانے والا سفارتی اہلکار نہ صرف 2009ء میں ختم ہونے والی ملکی خانہ جنگی کے اختتامی عرصے میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا تھا بلکہ اس پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے سری لنکن سفارت خانے کے ایک دوسرے اہلکار کو قتل بھی کر دیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق راجاپاکسے نے جن دو افراد کو جرمنی میں سری لنکن سفارت کار تعینات کیا، وہ 2009ء ہی میں کیے جانے والے ایک اخباری ایڈیٹر کے قتل کے مرکزی مشتبہ ملزم تھے۔ یہ قتل سری لنکا کے ایک اخبار کے معروف ایڈیٹر لسنتھا وکرماٹنگے کا قتل تھا، جو راجاپاکسے کی پالیسیوں کے وجہ سے ان کے ایک بڑے ناقد تھے۔ ان نام نہاد سری لنکن سفارت کاروں کے بارے میں بھرپور بین الاقوامی تنقید اور کئی حقائق کے منظر عام پر آنے کے بعد سے برلن میں تعینات رہنے والے ان دونوں سفارتی اہلکاروں کو قتل کے الزام میں حراست میں لیا جا چکا ہے۔

سری لنکا کے سابق صدر راجاپاکسے اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے خلاف اس وقت اس حوالے سے جامع تحقیقات جاری ہیں کہ وہ 2015ء میں اختتام کو پہنچنے والے راجاپاکسے کے دور صدارت میں وسیع تر فراڈ اور قتل کے کئی واقعات میں ملوث تھے۔