1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہماری ترجیح قومی سلامتی ہے، ہم عالمی پولیس نہیں’

نئی برطانوی کابینہ میں شامل وزراء نے واضح کردیا ہے کہ وہ افغانستان سے برطانوی فوج کا جلد از جلد انخلاء چاہتے ہیں اور وہاں مزید فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔

default

وزیر خارجہ ولیئم ہیگ، وزیر دفاع لیام فوکس اور بین الاقوامی ترقی کے وزیر اینڈریو مچل کابل پہنچے ہیں جہاں ان کی افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات طے ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ افغان مشن کو ’’اہم ترین  ترجیح‘‘ قرار دے چکے ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع لیام فوکس کے بقول اس دورے میں فوج کے جلد از جلد انخلاء سے متعلق امور زیر بحث رہیں گے۔’’ اب ہماری ترجیح قومی سلامتی ہے، ہم عالمی پولیس نہیں، افغانستان جیسے تیرہویں صدی کے ٹوٹے ہوئے ملک میں ہماری موجودگی کا مقصد تعلیمی پالیسی نہیں بلکہ ہم وہاں اس لئے ہیں کہ برطانوی عوام اور ہمارے عالمی مفادات محفوظ رہیں‘‘۔

Karl-Theodor zu Guttenberg in Afghanistan Flash-Galerie

امریکہ کے اہم اتحادی ملک جرمنی کے وزیر دفاع گٹن برگ نے واضح کیا ہے کہ فوجی انخلاء سے افغانستان پھر سے بکھر سکتا ہے

افغان صدرکو یقین ہے کہ ملکی سیکیورٹی فورسز کے دستے 2014ء تک سلامتی کی ذمہ داریاں خود سنبھالنے کے قابل ہوجائیں گے۔ برطانوی وزراء اس بات کا اندازہ لگانے افغانستان گئے ہیں کہ کس طرح معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر افغان پولیس اور فوج کی تربیت کا سلسلہ تیز کیا جائے۔

2001ء سے افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے سے اب تک جاری جنگ میں برطانیہ کے 286  فوجی مارے جاچکے ہیں۔ شورش زدہ افغانستان میں دس ہزار کے لگ بھگ برطانوی فوجی متعین ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق افغانستان میں مارے گئے غیر ملکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 1778 ہے جن میں سے 1081 امریکی ہیں۔ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ امریکہ اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اس تعداد کو رواں سال اگست تک ڈیڑھ لاکھ تک بڑھانہ چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی فوج ہلمند سے ہٹاکر قندہار میں تعینات نہیں کی جائے گی۔

Britische Minister in Afghanistan

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ

امریکی افواج آئندہ چند ماہ میں قندہار کے اندر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کارروائی کو طالبان کے خلاف حتمی معرکہ تصور کیا جارہا ہے۔ جمعہ کو نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں  البتہ کہا گیا تھا کہ افغانستان کے جنوب میں موجود فوج کی کمان کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق برطانوی میجر جنرل نک کارٹر قندہار جبکہ امریکی میجر جنرل رچرڈ ملز ہلمند کی کمان سنبھالیں گے۔

برطانوی حکومت دفاعی بجٹ میں 25 فیصد کٹوتی کا بھی ارادہ رکھتی ہے تاہم افغانستان متعین فوج کے لئے وسائل کی فراوانی یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

نئی برطانوی حکومت کی خارجہ پالیسی میں افغان مشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، غیر ملکی سربراہان مملکت میں سے سب سے پہلے افغان صدر حامد کزئی سے ملے ہیں۔

تینوں برطانوی وزراء کے حالیہ دورہء افغانستان میں مایہ ناز برطانوی فٹبالر ڈیوڈ بیکہم بھی ان کے ہمراہ ہلمند پہنچے ہیں۔ بیکہم برطانوی فوج کا مورال بلند کرنے کے لئے ویک اینڈ ان کے ساتھ گزاریں گے۔ 

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM