1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

' ہمارا پاکستان‘ کہنے پر میکا سنگھ مشکل میں پڑ گئے

بھارتی راک اسٹار میکا سنگھ کا امریکی ریاست ہیوسٹن میں رواں ماہ کی بارہ تاریخ کو ہونے والا کانسرٹ تنازعے کا شکار ہو گیا ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین کو اعتراض ہے کہ میکا نے ’ہمارا پاکستان‘ کے الفاظ کیوں استعمال کیے۔

بھارتی پاپ گلوکار میکا سنگھ کو امریکا میں ہونے والے ایک  کانسرٹ کی پروموشن کے حوالے سے اپنی ایک ویڈیو میں ’ہمارا پاکستان‘ کے الفاظ کہنے کے حوالے سے نہ صرف شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اُنہیں ایک ہندو انتہا پسند تنظیم کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نرمان سینا یا ’ ایم این ایس‘  کے سربراہ، امیا کھوپکر نے سنگھ کو ’ہمارا پاکستان‘ نامی کانسرٹ ہال میں پرفارم کرنے پر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب میکا کبھی مہاراشٹر میں پرفارم نہیں کر سکیں گے۔

میکا نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا،’’ ہائے ہیوسٹن میں آ رہا ہوں آپ سب کے ساتھ آزادی کا دن منانے۔ سب جانتے ہیں کہ پندرہ اگست کو ہمارا ہندوستان آزاد ہوا تھا اور چودہ اگست کو ہمارا پاکستان آزاد ہوا تھا۔ تو ہندوستان اور پاکستان کے لیے ایک اسپیشل شو لے کر آ رہا ہوں میں بارہ اگست کو۔۔‘‘

میکا سنگھ کے ’ہمارا پاکستان‘ کہنے پر بھارتی عوام نے ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں تنقید اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ یہ تنقید زیادہ اس لیے بھی زور پکڑ رہی ہے کہ سنگھ جس کانسرٹ ہال میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے جا رہے ہیں اس کا نام ہی ’ہمارا پاکستان‘ ہے۔

 یاد رہے کہ ستمبر کی اٹھارہ تاریخ کو بھارت کی اُڑی فوجی چھاؤنی پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے کے ردّ عمل کے طور پر انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا’ ایم این ایس‘ نے پاکستانی فنکاروں کو بھی اڑتالیس گھنٹے کے اندر بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اور اس فلم کی بھارت میں نمائش میں رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔

اس تنازعے کے بڑھنے کے سبب میکا سنگھ نے گزشتہ روز اپنے ٹویٹر پیج پر یہ پیغام لکھا۔

سوشل میڈیا پر جہاں بھارتی نژاد امریکیوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ سنگھ کو یہ کانسرٹ منسوخ کر دینا چاہیے تو دوسری جانب پاکستانی نژاد امریکی اس بات پر خوش ہیں کہ میکا سنگھ پاکستان کا یومِ آزادی منانے آ رہے ہیں۔

DW.COM