1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن کے خلاف ’فوجداری تحقیقات‘، تعلق ڈرون حملوں سے

ہلیری کلنٹن کے خلاف جن ای میلز کے سلسلے میں ’فوجداری تحقیقات‘ جاری ہیں، ان کا تعلق پاکستان میں ڈرون حملوں سے تھا اور ان ای میلز کا تبادلہ اسلام آباد میں متعینہ امریکی سفارت کاروں اور امریکی دفتر خارجہ کے درمیان ہوا تھا۔

Screenshot Veröffentlichung von Hillary Clintons Emails

ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے نومبر کے صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز کا اسکرین شاٹ

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ خبر امریکی روزنامے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے حوالے سے جاری کی ہے، جس نے یہ دعویٰ اپنی جمعرات کی اشاعت میں کیا تھا۔ اس جریدے نے لکھا تھا کہ خفیہ معلومات کے معاملے میں غفلت برتنے کے الزام میں ہلیری کلنٹن کو جس ’فوجداری چھان بین‘ کا سامنا ہے، اُس میں مرکزی اہمیت اُن ای میلز کو حاصل ہے، جن کا تبادلہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت کاروں اور واشنگٹن میں دفتر خارجہ کے حکام کے مابین ہوا تھا۔ ان ای میلز کا مقصد یہ طے کرنا ہوتا تھا کہ آیا دفتر خارجہ پاکستان میں کیے جانے والے مخصوص ڈرون حملوں کو روکے جانے کے احکامات جاری کر سکتا ہے۔

DW.COM

ای میلز کا یہ تبادلہ 2011ء اور 2012ء میں عمل میں آیا تھا، جب ہلیری کلنٹن وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھیں۔ یہ ای میلز، جن میں’سی آئی اے‘ یا ’ڈرون‘ جیسے الفاظ کی بجائے مبہم ا لفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، ’لو سائیڈ‘ کی وساطت سے بھیجی گئی تھیں۔ حکومت کی جانب سے ’لو سائیڈ‘ کی اصطلاح خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیے جانے والے کمپیوٹر سسٹم کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ کمپیوٹر سسٹم اُس خفیہ انتظام کا ایک حصہ ہے، جس میں بہت ہی تھوڑے سے وقت کے اندر اندر دفتر خارجہ کے پاس اس بارے میں اپنا موقف منوانے کا ایک آخری موقع ہوتا ہے کہ آیا سیکرٹ سروس کو کسی ڈرون حملے کے مجوزہ منصوبے پر واقعی عملدرآمد کر دینا چاہیے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ باتیں کانگریس کے عہدیداروں اور امن و امان قائم کرنے کے اداروں کے حکام نے بتائی ہیں، جنہیں وفاقی تحقیقاتی ادارےایف بی آئی کی جانب سے کی جا رہی تحقیقات سے آگاہ کیا گیا تھا۔

ان حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ تب کلنٹن کے دفتری ساتھیوں نے ان میں سے کچھ ای میلز آگے کلنٹن کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ میں بھیج دی تھیں، جہاں سے یہ آگے ایک ایسے سرور میں منتقل ہو گئیں، جو ہلیری کلنٹن نے نیویارک کے ایک مضافاتی علاقے میں اپنے گھر پر رکھا ہوا تھا۔ یہ ای میل سرور دفتر خارجہ کے کمپیوٹر نظاموں کے مقابلے میں کم محفوظ تھا۔ دفتر خارجہ کے ایک انسپکٹر جنرل کے مطابق کلنٹن منظوری لیے بغیر ایک پرائیویٹ ای میل سرور استعمال کرتے ہوئے سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی تھیں۔

Hillary Clinton mit Handy

ای میلز کے لیے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال کا متنازعہ معاملہ ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو بھی متاثر کرتا رہا ہے

ہلیری کلنٹن کی جانب سے ای میلز کے لیے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال کا متنازعہ معاملہ اُن کی انتخابی مہم کو بھی متاثر کرتا رہا ہے۔