1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن کے بیان پر شمالی کوریا کا سخت ردعمل

شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ہلیری کلنٹن کے سخت بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کلنٹن کے لئے "غیر منطقی" اور "غیر دانشمند" جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے مطالبے کے باوجود آسیان نے میانمار کی رکنیت ختم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

شمالی کوریا کے خبر رساں ادارے KCNA کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے بیانات کی روشنی میں اُنہیں "کسی طور بھی دانشمند نہیں کہا جا سکتا ہے"۔

کل بدھ کو تھائی لینڈ میں مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے سمٹ کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کر دینے کی تلقین کی تھی۔ شمالی کوریا نے 25 مئی کو نئے ایٹمی تجربات کئے تھے۔کلنٹن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "شمالی کوریا تنہا کھڑا ہے اور اب اسےجوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی برادری کے مطالبات ہر صورت میں ماننا ہوں گے، کوئی اُس کی مدد کو نہیں آئے گا"۔

USA Vorwahlen Demokraten Hillary Clinton

ہلیری کلنٹن نے آسیان تنظیم سے میانمار کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے رد کردیا گیا

امریکی وزیر خارجہ کے دورہء ایشیا کے دوران اس رویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے شمالی کوریا کے وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ "کلنٹن ایک غیر منطقی بچے کا سا برتاؤ کر رہی ہیں"۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ "کبھی تو وہ اسکول کی بچی معلوم ہوتی ہیں اور کبھی ایک ایسے پینشنر کی طرح، جو خریداری کرنے نکلا ہو"۔

Abhisit Vejjajiva Regierungschef Thailand

آسیان کے صدر اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم ابھیسیت وجے دیوا کے مطابق میانمار کی رکنیت ختم کرنا دانشمندانہ اقدام نہیں ہوگا

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز آسیان ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوجی حکومت کے ہاتھوں نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان آنگ سان سُوچی کی گرفتاری کی وجہ سے میانمار کی رکنیت ختم کر دے۔ تاہم آسیان کے صدر اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم ابھیسیت وجےجیوا نے کلنٹن کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ تھائی وزیر اعظم نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ "گو مغربی ممالک اور آسیان ایک مشترکہ مقصد رکھتے ہیں مگر اس کے لئے ضروری نہیں کہ حکمت عملی بھی ایک ہی رکھی جائے"۔

وجے جیوا کا کہنا ہے کہ میانمار کی رکنیت ختم کرنے کے لئےیہ وجہ کافی نہیں ہے اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ عمل میانمار کو مزید تنہا کر دے گا اور اس سے مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔

1997ء میں آسیان کا رکن بننے والا میانمار، حال ہی میں خاتون سیاستدان آنگ سان سُوچی کی گرفتاری کے باعث پوری دنیا کی تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

رپورٹ: مِیرا جمال

ادارت: امجد علی