1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن کی طرف سے اوباما کی حمایت کا اعلان

ڈینور میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن سینٹر میں ہلیری کلنٹن کی زندگی کے بارے میں ایک فلم دکھانے کے بعد اس خاتون کا متاثر کن خطاب شروع ہوا، جو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے پہلی خاتون صدارتی امیدوار بنتے بنتے رہ گئی تھیں۔

default

فلم میں ان کی زندگی کے مختلف ادوار دکھا ئے گے۔ ان کا بچپن، سکول کی زندگی، خاتون اول اور پھر صدارتی مہم میں انتھک کوششیں۔ فلم میں جو آواز ان کی زندگی کی داستان بتا رہی تھی وہ تھی ان کی اپنی بیٹی Chelsea کی، جو بعد میں خود سٹیج پر پہنچیں اور اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’میں اپنی ہیرو اور والدہ کا تعارف کرا نے میں بہت فخر محسوس کرتی ہوں۔ یہ ہیں سینیٹر ہیلری رودہم کلنٹن ۔‘‘

اس کے بعد 60 سالہ ہیلری کلنٹن تالیوں کی گونج میں سٹیج پر پہنچیں اور وہ فقرہ کہا جس کی بارک اوباما امید کرتے تھے ۔

’’ بارک اوباما میرے امیدواز ہیں، انہیں ضرور ہمارا صدر ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے پیارے وطن کا اقتدار پھر سے اپنے ہاتھ میں لیں ۔ اس سے قطع نظر کہ آپ نے مجھے یا اوباما کو ووٹ دیا تھا، اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مل جل کر کھڑے ہوں۔‘‘

یہ ایک واضح پیغام تھا ان کےنمائندوں اور حامیوں کی طرف کہ وہ ماضی کی تلخ انتخابی مہم کو جائیں اور اب نومبر کے صدارتی انتخاب کے موقع پراوباما کو ووٹ دیں۔ انہوں نے ریپبلیکن امیدوار جان مککین کے بارے میں کہا۔

’’جان مککین میرے ساتھی ہیں ۔ انہوں نے ہمارے ملک کی جرا ت کے ساتھ خدمت کی ہے۔ لیکن ہمیں مزید چار سال ویسے نہیں چاہییں، جیسے پچھلے آٹھ سال تھے۔‘‘

سابق صدربل کلنٹن بھی حاضرین میں موجود تھے اورفخر سے اپنی اہلیہ کو دیکھ رہے تھے ۔

ہلیری نے امریکہ میں عورتوں کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔

’’ میری ماں جب پیدا ہوئیں تو اس وقت عورتوں کوووٹ تک کا حق حاصل نہ تھا۔ لیکن اب میری بیٹی اپنی ماں کو صدارتی انتخاب کے لئے ووٹ دے سکتی ہے۔ یہ ہے امریکہ کی تاریخ۔‘‘