1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن کا دورہ پاکستان، کشیدگی میں کمی کی کاوش

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن آج جمعرات کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہی ہیں، جہاں پر وہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کریں گی۔ یہ ہلیری کلنٹن کا وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کا تیسرا دورہ ہے۔

default

اس سے قبل وہ مئی میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان آئی تھیں۔ اب لیکن وہ ایک ایسے موقع پر اسلام آباد پہنچ رہی ہیں، جب افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایک مرتبہ پھر سخت کشیدہ ہیں۔

اسلام آباد آمد سے قبل کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان انتہا پسندوں کو پناہ گاہیں مہیا نہ کرے۔ افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اس سلسلے میں تینوں ملکوں یعنی پاکستان افغانستان اور امریکہ کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

Pakistan USA Hillary Clinton un Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani in Islamabad

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ طالبان افغانستان میں جاری امن مذاکرات میں حصہ لیں ورنہ ان کے خلاف فوجی کارروائیاں بغیر کسی وقفے کے جاری رہیں گی۔ ان کے اس بیان پر دفاعی تجزیہ نگار حسن عسکری کا کہنا ہے، ”امریکہ افغان حکومت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے کہ اگر وہ طالبان کے کسی گروپ سے بات کرنا چاہے تو کر لے۔ اور کوئی ایسے عناصر، جو طالبان کی مدد کر رہے ہیں، اگر وہ یہ سلسلہ بند کر کے کرزئی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیں، تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔‘‘

قبل ازیں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس بھی جمعرات کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ تاہم پاکستانی فوج کے فارمیشن کمانڈرز کے راولپنڈی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے سبب پیٹریاس فوری طور پر اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتیں نہ کر سکے۔ فارمیشن کمانڈرز کی اس کانفرنس کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو ایک ایسے وقت میں منعقد کی گئی جب ہلیری کلنٹن پاکستان پہنچ رہی ہیں۔

Treffen Hillary Clinton mit Hamid Karzai in München ARCHIVBILD

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد امریکی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بات چیت سے قبل آرمی چیف کا فوج کے تمام اہم کمانڈروں سے مشورہ کرنا ہے تا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں متفقہ مؤقف اختیار کیا جا سکے۔

معروف تجزیہ نگار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ ہلیری کلنٹن کو اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا اور اس کے لیے دو طرفہ تعلقات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی بہتر ہو سکیں گے۔ ظفر ہلالی نے کہا، ”ہلیری کلنٹن سمجھتی ہیں کہ یہ بات اس طریقے سے نہیں ہو گی۔ یہ جو امریکی محکمۂ دفاع کا رویہ ہے اور جو کانگریس کا رویہ ہے، اس سے معاملہ اور بھی بگڑے گا تو یہ سب باتیں ہوں گی۔ اور ہلیری کلنٹن بتائیں گی کہ ان پر کتنا دباﺅ ہے۔ اور ہم بتائیں گے کہ ہم وہ کیوں نہیں کر سکتے جو امریکہ کہہ رہا ہے۔‘‘

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ پاکستان میں قیام کے دوران جمعے کو صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے علاوہ خطے میں امن و استحکام اور پاک افغان تعلقات میں موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششں بھی کریں گی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM