1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن کا دورہ روس، میدویدیف سے ملاقات

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن یورپ کے پانچ روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے اس دورے کا آغاز گزشتہ جمعہ کو کیا۔ پیر کی شب وہ روس پہنچ گئی ہیں۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی فائل فوٹو

Dmitry Medwedew

روسی صدر دیمتری میدویدیف

ہلیری کلنٹن کے اس دورے کا بنیادی مقصد ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام اور افغانستان کی صورتحال پر روسی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا ہے۔

وہ آج منگل کو روسی صدر دیمتری میدویدیف اور اپنے روسی ہم منصب لاویروف سے ملاقات کریں گی۔ ماسکو حکام سے بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ روس اور امریکہ کے مابین 1991ء میں طے پانے والے جوہری ہتھیاروں میں تخفیف سے متعلق ’اسٹریٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی‘ START کی تجدید کے بارے بھی میں بات چیت کرنا چاہتی ہیں جس کی مدت پانچ دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ افغانستان اور ایران کے علاوہ شمالی کوریا کا موضوع بھی زیر بحث آنے کے امکانات ہیں۔

ہیلیری کلنٹن کے اس دو روزہ روسی دورے سے پہلے ہی صدر میدویدیف نے ’ اسٹریٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی‘ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا تھا:'یہ موضوع بلاشبہ انتہائی اہم ہے۔ ہمیں دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لئے ممکنہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا ایک آئیڈل ہے تاہم یہ موضوع اس اجلاس کے ایجنڈا پر ہے۔ '

اسٹریٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی کے بارے میں واشنگٹن اور ماسکو کے مابین کسی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما اور انکے روسی ہم منصب میدویدیف اس معاہدے کی اہمیت اور دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ارادہ ظاہر کرتے آئے ہیں۔ تاہم میدویدیف نے ایک روز قبل ہی اپنے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ سے تخفیف اسلحہ کے معاہدوں پر زور دیتا رہا ہے۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا: افسوس ناک امر یہ ہے کہ گزشتہ امریکی حکومت کے لئے یہ موضوع خارجہ پالیسی کی ترجیح کبھی نہیں رہا۔'

Russicher Außenminister Sergej Lawrow in Brüssel

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاویروف

ہلیری کلنٹن وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ روس کے دورے پر ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئیر اہلکار کے مطابق وہ ماسکو حکام کو ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر قائل کرنا چاہتی ہیں۔ اگر ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ اپنے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے مسئلے کو سفارتی کوششوں سے حل کرنے میں تعاون نہیں کرتا تو اس پر مزید دباؤ کے لئے پابندیاں کس طرح سخت کی جائیں اور ماسکو حکومت اس سلسلے میں تہران پر کس قسم کا مخصوص دباؤ ڈال سکتی ہے۔ یہ ہے وہ اہم ترین سوال جو ہلیری کلنٹن روسی حکام سے کرنا چاہتی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر صدر اوباما کے ساتھ نیو یارک میں ایک ملاقات کے دوران میدویدیف نے کہا تھا کہ پایندیاں کبھی کبھی ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ روسی صدر کے اس بیان نے واشنگٹن انتظامیہ کو خوش کر دیا تھا۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM