1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن کا دورہء ایشیا

نئی امریکی حکومت کی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن اپنے پہلے غیر ملکی دورہ پر جاپان پہنچ گئی ہیں۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

امید کی جارہی ہے کہ اس دورے کے دوران رہنماؤں سے ان کی ملاقاتوں میں عالمی اقتصادی بحران، سیکیورٹی مسائل، پاکستان اور افغانستان کی صورتحال، ماحولیاتی تبدیلی اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سیت اہم امور زیر بحث رہیں گے۔

جاپان پہنچنے پر اپنے دورے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نےکہا کہ ان کا سب سے پہلے ایشیا کا دورہ اس بات کا ثبوت ہےکہ امریکہ اکیسویں صدی میں چیلنجوں کا سامنا کرنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایشیائی ممالک سے اپنے تعلقات کو نا گزیر سمجھتا ہے۔

دوسری طرف امریکی سیکرٹری خارجہ کے دورہ کے آغاز سےکچھ دیر قبل ہی شمالی کوریا کی جانب سے اپنے دور مار میزائل کے تجربے کی تیاری کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا اپنا خلائی پروگرام کی ترقی کا حق استعمال کرتے ہوئے دور تک مار کرنے والے میزائل تائپوڈونگ 2 کے تجربے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکی ریاست الاسکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والے اس میزائل کے تجربے کی تیاری کے بارے میں امریکی اور جنوبی کوریائی حکام نے بھی تصدیق کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے دورے کے آغاز سے قبل شمالی کوریائی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: "اگر شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے پر رضامند ہوتا ہے تو صدر اوبامہ کی حکومت اس سے اپنے تعلقات معمول پر لانے، لمبے عرصے سے عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے امن معاہدہ کرنے اور شمالی کوریائی عوام کی توانائی اور دیگر اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون پر تیار ہے۔"

کئی دہائیوں سے یہ روایت بن چکی تھی کے امریکہ کے نئےوزیر خارجہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے یورپ یا مشرق وسطیٰ کے دورہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن ہیلری کلنٹن نے اس بار اس روایت کوتوڑتے ہوئے ایشیائی ممالک کے دورے کا فیصلہ کیا ہے جس میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک انڈونیشیا بھی شامل ہے۔

دورے کے اگلے مرحلے میں ہیلری کلنٹن جاپان سے 18 فروری کو انڈونیشیا روانہ ہوجائیں گی۔ جہاں سے وہ 19فروری کو جنوبی کوریا جائیں گی جبکہ دورے کے آخری مرحلے میں وہ 20 فروری کو چین جائیں گی۔