1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلیری کلنٹن۔ وزیر خارجہ کے طور پر پہلے چھ مہینے

امریکہ میں نئی باراک اوباما انتظامیہ کو برسرِ اقتدار آئے چھ مہینے پورے ہو چکے ہیں۔ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ہلیری کلنٹن اوبامہ کی سخت ترین حریف تھیں، اِس لئے وزیر خارجہ کے طور پر اُن کی نامزدگی خاصی غیر متوقع تھی۔

default

گذرے چھ مہینے یہ واضح کرتے ہیں کہ خارجہ سیاست بنیادی طور پر صدر کے دائرہء اختیار میں ہو گی اور کلنٹن صدر کے سائے میں رہتے ہوئے خود کو زیادہ نمایاں نہیں کریں گی۔

ہلیری کلنٹن ایک خارجہ سیاسی پالیسی تقریر کے ساتھ گذشتہ ہفتے سیاسی اسٹیج پر واپس آئیں۔ کہنی کے زخم کی وجہ سے وہ اِس سے پہلے کئی ہفتے تک کسی سرکاری تقریب میں شریک نہیں ہو سکی تھیں۔ اُنہیں روس کا وہ دَورہ منسوخ کرنا پڑا، جس میں اُنہوں نے صدر اوباما کے ساتھ جانا تھا۔

اپنی تقریر میں ہلیری کلنٹن نے ایک بڑی طاقت کے طور پر امریکہ کی خوش تدبیر حکمتِ عملی کے خدو خال پر بات کی۔ اِس میں نئی باتیں کم ہی تھیں۔ امریکی اخبارات میں زیادہ چرچا اِس بات کا رہا کہ وزیر خارجہ کا اپنے شعبے میں اثر و رسوخ کس قدر ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عراق سے لے کر افغانستان تک اور پاکستان سے لے کر مشرقِ وُسطےٰ تک باراک اوباما ہی امریکی پالیسی کا رُخ متعین کر رہے ہیں۔

Obama zu Afghanistan

ہلیری کلنٹن کو ابھی اُن توقعات پر پورا اترنا ہے، جو اُن سے وابستہ کی گئی ہیں

واشنگٹن میں بیرٹلز مان فاؤنڈیشن کی انچارج آنیٹے ہوئیزر کے خیال میں وائٹ ہاؤس اور وزارتِ خارجہ کے مابین یہ مقابلہ بازی معمول کی بات ہے:’’دونوں ہاؤسز کے درمیان ایک طرح کی بنیادی مقابلہ بازی تو رہتی ہی ہے، ویسے ہی، جیسے جرمنی میں چانسلر آفس اور وزارتِ خارجہ میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ وہاں بھی ہمیشہ ایسے نہیں ہوتا کہ تمام خارجہ سیاسی معاملات میں دونوں ہم خیال ہوں۔ تمام سیاسی امکانات کھلے رکھنے کے حوالے سے دیکھا جائے تو بعض ا وقات یہ اتنی بری بات بھی نہیں ہے۔‘‘

آنیٹے ہوئیزر کے خیال میں ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ ہلیری کلنٹن کو تنہا کر دیا گیا ہو۔ اُنہوں نے کہا، یہ بات باعثِ تعجب نہیں ہے کہ کوئی بھی صدر اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد شروع شروع میں خارجہ سیاسی معاملات اپنے تسلط میں رکھنا چاہتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سابقہ خاتونِ اول کلنٹن ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں، جنہیں انتظار کرنے کا ہنر آتا ہے۔ کلنٹن نے ذہانت سے کام لیتے ہوئے ابتدا میں خارجہ سیاسی میدان مکمل طور پر صدر کے لئے چھوڑ دیا ہے۔

تاہم ہلیری کلنٹن کو صدر ہی نہیں بلکہ خارجہ سیاسی تجربہ رکھنے والے نائب صدر جو بائیڈن کی طرف سے بھی مقابلے کا سامنا ہے، جنہیں اب عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ دو اور با اثر شخصیات بھی خارجہ سیاسی میدان میں کلنٹن کی حریف ہیں، ایک خصوصی مندوب برائے پاکستان اور افغانستان رچرڈ ہول بروک اور دوسرے خصوصی مندوب برائے مشرقِ وُسطےٰ، جارج مچل۔

Clinton in Indien mit Minister Krishna

ہلیری کلنٹن ایک طویل عرصے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ

واشنگٹن میں ووڈ رو ولسن سینٹر سے وابستہ ماہرِ سیاسیات آرون ڈیوڈ مِلر کے مطابق اتنے زیادہ خصوصی ایلچیوں کی تقرری اُلٹا کلنٹن کےکام میں معاون ثابت ہو گی:’’دنیا بڑی حد تک بے ترتیبی کا شکار ہے۔ ایران، پاکستان، افغانستان، عراق یا پھر مشرقِ وُسطےٰ کے بحرانات پیچیدہ ہیں۔ اِن کا کوئی آسان اور فوری حل نہیں ہے۔ یہ بحرانات ممکنہ طور پر اوباما اور کلنٹن کے دور میں بھی حل ہوتے نظر نہیں آتے۔ کلنٹن کو دُنیا میں جن سخت اور ہولناک حالات کا سامنا ہے، اُس میں کامیابیاں یا تبدیلیاں اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہو سکیں گی، جتنا کہ جارج بُش سینئر یا پھر ہلیری کلنٹن کے پیش رو جارج بیکر کے دور میں ممکن ہوئیں۔‘‘

مِلر کے مطابق اوباما کی سابق حریف ہونے کے باعث کلنٹن کی وائٹ ہاؤس کے اندرونی حلقے تک رسائی نہیں ہو سکے گی۔ اوباما نے زیادہ تر مشیر اپنی انتخابی مہم کی ٹیم میں سے لئے ہیں۔ اہم سفیروں کی تقرری بھی اوباما نے اپنی مرضی سے کی ہے۔ بظاہر اِس میں کلنٹن کی شکست ہی سہی لیکن وہ اپنی غلطیوں سے سیکھیں گی۔

خود وہ اپنے اور صدر کے درمیان کسی بھی طرح کے اختلافات کو رد کرتے ہوئے کہتی ہیں:’’جہاں تک وائٹ ہاؤس اور صدر اوباما کے ساتھ میرے ذاتی تعلق کا معاملہ ہے، یہ میرے لئے یہ بہت ہی اعزاز کی بات ہے اور مجھے بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔‘‘

زیادہ تر حلقوں کے خیال میں وزیر خارجہ کے عہدے کے لئے ہلیری کلنٹن بلاشبہ سب سے اچھا انتخاب تھیں لیکن آیا وہ اُن توقعات پر پورا اُتر سکیں گی، جو اُن سے وابستہ کی گئی ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔