1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلمند میں سویلین ہلاکتیں، مک کرسٹل کی معافی

افغان صوبے ہلمند میں جاری آپریشن مشترک میں بارہ عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ناد علی نامی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے پر نیٹو کمانڈر جنرل سٹین لے مک کرسٹل نے افغان حکومت اور عوام سے معافی مانگی ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نیٹو اہلکاروں نے مبینہ طور پر طالبان کی فائرنگ سے بچنےکے لئے راکٹ فائر کئے جس کی زد میں عام شہری آئے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے افراد تھے۔ کارروائی میں افغان دستے کی کمان کرنے والے جنرل شیر محمد زازئی نے ستائیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے تین اہلکاروں کی ہلاکت تسلیم کی گئی ہے۔ مرجا قصبے میں جاری اس کارروائی میں اب تک اسی بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئی ہیں۔

Afghanistan / Helmand / Flüchtlinge

کارروائی سے قبل بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کا رخ کیا تھا

آپریشن مشترک کے مرکزی حدف، طالبان کے مضبوط گڑھ تصور کئے جانے والے علاقے مرجا سے گزشتہ روز بڑے پیمانے پر بارودی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

نیٹو کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں نے علاقے سے جاتے ہوئے جگہ جگہ مقامی طور پر بنائی گئیں IEDs بچھائی ہیں جس سے آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دریں اثنا امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چئیرمین ایڈمرل مائیکل ملن نے واضح کیا ہے کہ کارروائی کا مقصد بڑے پیمانے پر طالبان کی ہلاکت نہیں ہے ۔ایڈمرل ملن نے تل ابیب میں صحافیوں کو بتایا کہ آپریشن کا جرچا بہت پہلے سے کیا جارہا تھا تاکہ عسکریت پسند علاقہ چھوڑ دیں اور خون خرابہ نہ ہو۔ ان کے مطابق اصل مقصد علاقے میں افغان حکومت کی عملداری قائم کرنا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے دوحا میں US Islamic World Forum سے خطاب میں واضح کیا کہ امریکہ نہ تو افغانستان پر قابض ہونا چاہتا ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM