1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلمند فضائی حملہ: شہری ہلاکتوں کی چھان بین کا حکم

افغان صدر حامد کرزئی نے ملک میں جمعے کے روز ہونے والے اس فضائی حملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے ہلمند سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کم از کم 45 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

default

فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تحقیقات جاری

افغانستان میں بین الاقوامی فوجی دستوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات کی ہنگامی بنیادوں پر چھان بین کر رہے ہیں تاہم اتحادی فوجی ذرائع کو ابھی تک اس ضمن میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔

صوبے ہلمند میں اتحادی فوج کی طرف سے جس وقت ایک گاؤں پر یہ مبینہ فضائی حملہ کیا گیا، اس وقت ایک قریبی علاقے میں ہونے والی لڑائی سے متاثرہ بہت سے عام شہری اپنی جانیں بچانے کے لئے وہاں پناہ لئے ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکت خیز واقعہ دن کی روشنی میں پیش آیا۔ ایک سولہ سالہ نوجوان محمد خان کے مطابق اس فضائی حملے سے قبل ایک جنگی ہیلی کاپٹر مسلسل اس گاؤں کے اوپر پرواز کرتا رہا۔

NO FLASH Afghanistan Angriff Friedens-Dschirga Kabul Taliban Karzai

افغان صدر حامد کرزئی نےفوری تحقیقات کا حکم دے دیا

محمد خان کے مطابق اس نے وہاں موجود کئی بچوں سے کہا تھا کہ وہ کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں۔ اس پر ان بچوں میں سے متعدد ایک دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے اور فضائی حملے کے دوران زیادہ تر محفوظ رہے۔

اس حملے کے بارے میں محمد خان نے بتایا: ’’میں نے اپنے گھر پر گرنے والے راکٹ کی آواز سنی۔ میں خوفزدہ ہو کر اپنے والد کے ساتھ بھاگا تو دیکھا کہ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئیں تھیں۔ میرے والد بھی ایک لاش کے بالکل قریب ہی کھڑے تھے۔‘‘

Afghanistan NATO Jalalabad Anschlag

نیٹو کے اڈوں پر بھی کئی فضائی حملے ہو چکے ہیں

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک محمد خان کا بھائی بھی تھا، جو حملے کے وقت گھر میں سویا ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد مقامی لوگوں نے ہلاک شدگان اور زخمیوں کو ملبے کے نیچے سے نکال کر ہسپتال پہنچانا شروع کر دیا۔ ’’لاشیوں کو ملبے سے نکالنے کا کام رات دیر تک جاری رہا۔ ہلاک ہونے والے 39 افراد کو بعد ازاں دفنا دیا گیا جبکہ چھ افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ غالباﹰ اب تک تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ایک دوسرے مقامی شہری حاجی رحیم کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کو دن کی روشنی میں ہی دفنا دیا گیا۔ حاجی رحیم نے زار و قطار روتے ہوئے بتایا: میں ساری رات سو نہیں پایا۔ دوسرے دن میں اور کئی دوسرے مقامی افراد مل کر نیٹو کو اس واقعے کی اطلاع دینے گئے۔‘‘

افغانستان میں قومی سلامتی کونسل کہلانے والے ادارے NSC کے ذرائع

نے پیر کے روز کابل میں بتایا کہ انہیں اب تک اس سے زیادہ کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ہلمند میں ایسا ایک ہلاکت خیز فضائی حملہ ہوا ہے، جس کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM