1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہلمند اور قندوز کے صوبے طالبان کے لیے اہم کیوں؟

افغان طالبان افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند اور شمالی صوبے قندوز کے دارالحکومتوں پر قبضہ کیوں کرنا چاہتے ہیں اور ان علاقوں کی اس عسکریت پسند اسلامی گروپ کے نزدیک اتنی اہمیت کیوں ہے؟ ڈی ڈبلیو نے اس کا تجزیہ کیا ہے۔

Afghanistan Mohnernte in Kandahar

اگر طالبان ہلمند پر قبضہ کر لیتے ہیں تو انہیں افیون کی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا

گزشتہ کچھ روز سے افغانستان کے غیر مستحکم صوبوں ہلمند اور قندوز میں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ ان صوبوں کے کئی اضلاع پر طالبان قبضہ کر چکے ہیں اور اب صوبائی دارالحکومتوں کی طرف پیشقدمی کی جارہی ہے۔ چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا مقصد محض ہلمند اور قندوز کے دارالحکومتوں پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ ان صوبوں کا تمام تر کنٹرول حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ ان تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ ایک سوچی سمجھی چال ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تجزیہ کار واحد مژدہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ گزشتہ برس طالبان کا قندوز پر مختصر وقت کے لیے قبضہ ان کے لیے ایک برا تجربہ ثابت ہوا۔‘‘ مژدہ کے مطابق طالبان اصل میں اپنی طاقت کا مظاہرہ دکھانا چاہتے ہیں۔ مژدہ نے مزید کہا کہ طالبان افغان سکیورٹی فورسز کی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ قندوز اور ہلمند دفاعی اعتبار سے افغان حکومت اور طالبان دونوں ہی کے لیے یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔

تاہم واشنگٹن میں قائم ’وڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار سکالرز‘ میں جنوبی ایشیا کے امور پر نظررکھنے والے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کا ماننا ہے کہ طالبان کا ہلمند صوبے میں ایک سے زیادہ شہروں پر قبضے کا ارادہ بھی ہو تو بھی وہ اس صوبے میں امریکی افواج کی خاطر خواہ موجودگی کے باعث ایسا نہیں کر سکیں گے۔

Afghanistan Kämpfe in der Prozinz Helmand

تجزیہ کاروں کے مطابق لشکر گاہ پرطالبان کا قبضہ گیم چینجر ثابت ہو گا

کوگل مین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ امریکی افواج ہلمند میں افغان فوجیوں کو عملی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ کوگل مین کا کہنا تھا ،’’میرے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ امریکی افواج کی جانب سے اس بھر پور معاونت کے باوجود بھی طالبان ہلمند پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ہلمند اور قندوز دونوں طالبان اور افغان حکومت کے لیے اتنے اہم کیوں ہیں؟ اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ افغانستان میں سب سے زیادہ افیون ہلمند میں پیدا ہوتی ہے۔

دوسری جانب صوبہٴ قندوز شمالی افغانستان کو وسطی ایشیا اور باقی ملک سے جوڑتا ہے۔ دو مختلف محاذوں پر بیک وقت لڑتے ہوئے طالبان اب صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ اورشمال میں قندوز شہر پر قبضے کے قریب ہیں۔ اگر طالبان ان دونوں شہروں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک طرف انہیں ہلمند میں افیون کی تجارت پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا اور دوسری جانب وہ افغانستان کے شمالی علاقوں کو باقی ملک سے کاٹ سکیں گے۔

مائیکل کوگل مین نے اس صورت حال پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان نے قندوز میں اپنی پوزیشن واپس حاصل کی ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھی مختصر مدت کے لیے طالبان نے یہاں قبضہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ عسکریت پسند گروہ یہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔

Afghanistan Kämpfe um Kundus

قندوز اور ہلمند دفاعی اعتبار سے افغان حکومت اور طالبان دونوں ہی کے لیے یکساں اہمیت کے حامل ہیں

تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہلمند کا دارالحکومت لشکر گاہ طالبان کے قبضے میں چلا جاتا ہے تو یہ افغان جنگ میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گا۔ کوگل مین کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کے دوران یہ بھی کہنا تھا کہ لشکر گاہ پر قبضے سے نہ صرف طالبان کو معاشی استحکام حاصل ہو گا بلکہ اس سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ پیغام بھی ملے گا کہ طالبان ان علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، جہاں ایک عرصے سے غیر ملکی افواج طالبان کے خطرے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہے ہیں۔

تاہم مژدہ کی رائے میں طالبان یہ پیغام پہلے ہی افغان حکومت اور اس کے غیر ملکی اتحادیوں کو بھیج چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ افغان فوجی دستوں کو طالبان کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک عرصے سے بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز ملک کے متعدد علاقوں میں امریکا اور نیٹو کی مدد کے بغیر طالبان سے برسرِپیکار ہیں۔ نیٹو کے نئے مشن کے تحت غیر ملکی فوجی دستے جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان کا کام مقامی فوج کو مشورے اور تربیت فراہم کرنا اور ان کی مدد کرنا ہے۔

DW.COM