1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہلمند آپریشن کا ایک ماہ: ایک میزانیہ

ايک ماہ قبل،13 فروری کی رات 15 ہ‍زار بين الاقوامی اور افغان فوجيوں نے افغانستان کے صوبے ہلمندميں اُس کارروائی کا آغاز کيا تھا جسے،طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سب سے بڑی کارروائی قرار ديا جاتا ہے۔

default

اس کارروائی کو آپریشن مشترک کا نام دیا گیا تھا۔ صوبہ ہلمند کا مرجاہ نامی شہر اس کارروائی کا مرکزی حدف تھا، جو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

پچھلے دنوں افغان صدر حامد کرزئی نے ہلمند صوبے کے شہر مرجاہ کا اچانک دورہ کيا، جہاں سے بين الاقوامی فوج نے طالبان کو حال ہی ميں نکالا ہے۔ افغان صدر نے تقريباً 300 قبائلی بزرگوں سے اپيل کی کہ وہ حکومت کی حمايت کريں۔ قبائلی رہنماؤں نے مرجاہ کے خراب حالات کے بارے ميں صدر کرزئی سے شکايت کی۔ حامدکرزئی نے کہا: "ہم نے خيالات کا تبادلہ کيا ہے۔ ميں نے اُن کی سنی اور اُنہوں نے ميری باتوں کو سنا۔ ان کی شکايات بالکل بجا ہيں۔ يہاں کے لوگ ايک عرصے سے يہ محسوس کررہے ہيں کہ انہيں مشکلات ميں تنہا چھوڑديا گيا ہے جو کہ کئی صورتوں ميں صحيح ہے۔ ہميں اُنہيں وہ تحفظ فراہم کرنا ہوگا جس کا وہ مطالبہ کررہے ہيں۔"

Afghanistan / US-Armee / Helmand

آپریشن کے بعد طالبان سے یہ علاقہ خالی کرا لیا گیا

افغانستان ميں نيٹو کو يہ تلخ سبق سيکھنا پڑا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے کسی علاقے سے فريق مخالف کو بھگا دينا ہی کافی نہيں ہوتا بلکہ اصل کام اُس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ امريکی وزير دفاع رابرٹ گيٹس کا کہنا ہے: "ہم نے ملازمتيں فراہم کرنے اور زراعتی منصوبے شروع کرديے ہيں۔ بازار اور اسکول دوبارہ کھل رہے ہيں۔جنگ کی وجہ سے بھاگ جانے والے گھرانے واپس آرہے ہيں۔"

طالبان عام شہريوں کی سلامتی اور تحفظ کو خطرے ميں ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہيں۔ وہ بارودی سرنگيں بچھا رہے ہيں اور خود تيارکردہ بم استعمال کررہے ہيں۔آپريشن مشترک کے شروع ہونے کے چار ہفتے بعد ابھی تک گھات لگا کر کی جانے والی فائرنگ فوجيوں اور مقامی لوگوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

Hamid Karzai

افغان صدر کرزئی نے علاقے کا دورہ کیا

مرجاہ کے نئے ضلعی سربراہ عبدالظاہر کا کہنا ہے کہ نيٹو کے دستے بہت محتاط ہيں ليکن آپريشن مشترک کے شروع ہی ميں ايک ميزائل نے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے بجائے کئی شہريوں کہ ہلاک کرديا: "ظاہر ہے کہ جب ہمارا کوئی مسلمان بھائی يا کوئی بچہ مارا جاتا ہے تو ہم اس پر رنجيدہ ہوجاتے ہيں، ليکن کوئی اور راستہ نہيں تھا اور اس آپريشن کو تو ہونا ہی تھا۔"

عبدالظاہر ايک مہاجر کے طور پر کئی سال جرمنی ميں بھی گذار چکے ہيں اور اب افغانستان کے خطرناک ترين صوبے ہلمند کے شہر مرجاہ کی قسمت اُن کے ہاتھ ميں بھی ہے۔ تاہم، مغربی فوجی دستوں ہی کی طرح اُنہيں بھی يہ معلوم ہے کہ مرجاہ ميں اصل جنگ اب شروع ہورہی ہے اور وہ دلوں اور دماغوں اور يہاں کے عوام کا اعتمادجيتنے کی جنگ ہے۔

رپورٹ : کائی کيوشنر، نئی دہلی/ ترجمہ : شہاب احمد صديقی

ادارت : افسر اعوان