1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ہلاک شدگان کی تعداد پانچ سو ہو گی‘

اطالوی حکام نے گزشتہ برس اپریل میں مہاجرین کی ایک کشتی کے سمندر برد ہونے کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد کم کر دی ہے۔ نئے اندازوں کے مطابق بحیرہ روم میں پیش آنے والے اس حادثے میں امکاناً پانچ سو افراد مارے گئے ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے اطالوی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اٹھارہ اپریل سن دو ہزار پندرہ کو رونما ہونے والے اس حادثے کے نتیجے میں آٹھ سو افراد کے مارے جانے کا امکان نہیں ہے۔

DW.COM

ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی اس کشتی میں سات سو سے آٹھ سو مہاجرین سوار تھے۔ امدادی کارکن صرف اٹھائیس افراد کو بچا سکے تھے جبکہ صرف 169 لاشیں برآمد ہو سکی تھیں۔

بحیرہ روم میں رونما ہونے والے اس بدترین حادثے کے نتیجے میں یورپی ممالک نے سمندری نگرانی کو مزید بہتر بنانے کا عہد کیا تھا جب کہ متعدد ممالک نے ریسکیو آپریشن میں شامل اپنی بحری فورس میں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

اطالوی حکام نے بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کو سمندر سے نکال لیا گیا ہے اور اس کے معائنے اور سائز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں پانچ سو کے قریب افراد ہی سوار ہوں گے۔

شمالی افریقی ملک لیبیا سے ہزاروں افراد کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی واقعات میں کشتیوں کو پیش آنے والے حادثات کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

بحیرہ روم میں ڈوبنے والی زیادہ تر کشتیوں کو سمندر کی تہہ سے نکالا بھی نہیں جاتا جبکہ مرنے والوں کی شناخت بھی ممکن نہیں ہو سکتی۔ تاہم اٹلی نے عہد کیا تھا کہ مہاجرین کے بحران میں اس بدترین حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کو بازیاب کیا جائے گا اور مرنے والے افراد کی شناخت کی کوشش کی جائے گی۔

روم حکومت نے اس کشتی کو سمندر کی تہہ سے نکالنے اور لاشوں کی شناخت کی خاطر 9.5 ملین یورو کی رقوم مختص کی تھی۔ کوشش ہے کہ ہلاک شدگان کا ایک ڈیٹا بیس بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے اس حادثے کا شکار ہونے والے افراد کے ممکنہ لواحقین سے بھی مدد طلب کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد وشمار کے مطابق انیس اپریل سن 2015 سے اب تک تقریبا چار ہزار نو سو سینتیس افراد مہاجرت کے اس سفر کے دوران بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ افراد شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں مارے گئے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے متعدد کارکنان کے مطابق اس بحران میں ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔