ہلاکتیں کم ہو گئیں مگر خطرہ برقرار | معاشرہ | DW | 19.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہلاکتیں کم ہو گئیں مگر خطرہ برقرار

سال رواں کے دوران ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے پینسٹھ افراد کو ہلاک کیا گیا، چوّن اغوا ہوئے جبکہ 326 زیر حراست ہیں۔ یہ اعداد و شمار صحافیوں کی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈز نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیش کیے ہیں۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈز (آر ایس ایف) کے مطابق صحافیوں کے لیے مشرق وسطٰی سب سے پرخطر خطہ ہے۔ خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شام بدستور پہلے نمبر پر ہے، جہاں بارہ رپورٹر ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد میکسیکو کا نمبر آتا ہے، جہاں اس سال گیارہ صحافی مارے گئے۔

ان پینسٹھ صحافیوں میں سے انتالیس کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا جبکہ باقی اپنی صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر گزشتہ چودہ برسوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی یہ سب سے کم سالانہ تعداد ہے۔ سال رواں کے دوران دنیا کے کئی خطرناک خطوں میں صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو محدود بھی کر دیا گیا۔ سب سے زیادہ صحافی ترک جیلوں میں بند ہیں، جن کی تعداد بیالیس بنتی ہے۔

 

بھارت میں چوبیس گھنٹوں کے اندر دو صحافیوں کا قتل

آزادی صحافت کا عالمی دن: فکری اختلاف کے لیے احترام کی ضرورت

آر ایس ایف نے بتایا کہ سال رواں کے دوران ہلاک ہونے والے میڈیا کارکنوں میں سے پچاس پیشہ ور صحافی تھے۔ براعظم ایشیا کی بات کی جائے تو فلپائن میں صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے۔ اس ملک میں پانچ صحافیوں کو گولیاں ماری گئیں، جن میں سے چار ہلاک ہو گئے۔ اس سے قبل صحافیوں کی اسی تنظیم نے فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے کے اس بیان پر بھی شدید تنقید کی تھی، جس میں انہوں نے صحافی برادری کو گالی دیتے ہوئے کہا تھا، ’’اگر آپ صحافی ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

 

DW.COM