1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہلاکتوں کی جامع تحقیقات ہوں گی، جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمن چانسلر میرکل نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر نیو نازیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے دس افراد کی ہلاکتوں سے متعلق حقائق منظرعام پر آنے چاہییں۔ میرکل نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں دہرایا ہے کہ اس حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

default

گزشتہ دہائی کے دوران نو تارکین وطن اور ایک خاتون پولیس افسر کے قتل کی وارداتیں جرمن پولیس کی لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھیں تاہم گزشتہ ہفتے ہی انکشاف ہوا کہ جرمنی کے مختلف علاقوں میں ہوئی قتل کی ان وارداتوں میں مبینہ طور پر انتہاپسند نیو نازی گروپ کا ہاتھ ہے۔ ان ہلاکتوں کے پیچھے نیو نازی گروپ کے ملوث ہونے پر جرمن قوم سکتّے میں آ گئی ہے۔

ہفتے کی شام جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی ہفتہ وار ویڈیو پوسٹ میں کہا، ’ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک ان ہلاکتوں کے بارے میں حقائق سامنے نہیں آ جاتے۔‘ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مزید کہا کہ وہ بذات خود اور ہلاک شدگان کے لواحقین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قصوروار کون ہے۔

Tausende bei der Aktion Dresden gegen Rechts

جرمن عوام میں نیو نازی ازم کے حوالے سے نفرت پائی جاتی ہے

گزشتہ ہفتے ہی جرمن پولیس نے 2000ء اور 2007ء کے دوران 9 ترک نژاد جبکہ ایک یونانی نژاد شہری کے علاوہ ایک خاتون پولیس اہلکار کے قتل کے پیچھے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے سے گروپ کو ملوث پایا تھا۔

پولیس نے ایسے شبے کا اظہار بھی کیا ہے کہ 2004ء میں کولون شہر میں ترک نژاد شہریوں پر ہوئے ایک حملے میں بھی یہی نیشنلسٹ سوشلسٹ انڈرگراؤنڈ گروپ ملوث ہوسکتا ہے۔ اس انتہا پسندانہ کارروائی میں بیس ترک نژاد جرمن شہری زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں اس نازی گروپ میں شامل 36 سالہ ایک مشتبہ خاتون کے علاوہ ایک ایسے شخص کو بھی گرفتار کیا ہے، جس پر شبہ ہے کہ اس نے قتل کی ان وارداتوں میں معاونت کی تھی۔ گرفتار شدہ خاتون کے دو مرد ساتھی بظاہر خودکشی کر چکے تھے، جبکہ ان کے گھر سے ایک ڈی وی ڈی برآمد ہوئی تھی، جس میں انہوں نے قتل کی ان وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جمعہ کے دن پولیس نےاس کیس کے حوالے سے مزید دو مشتبہ افرادکی شناخت کی، تاہم اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM