1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہلاکتوں پر جرمن پارلیمان شرمسار

جرمنی میں نیو نازی گروپ کے ہاتھوں مبینہ طور پر دس افراد کی ہلاکتوں پر جرمن پارلیمان نے سکیورٹی ایجنسیوں کی خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے متفقہ طور پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔

default

منگل کے دن جرمن پارلیمان نے ایک متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ سات سالوں کے دوران ہونے والی ان ہلاکتوں پر شرمسار ہے۔ جرمن پارلیمان کے اسپیکر نوربٹ لامرٹ نے اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا، 'ہم نادم ہیں کہ وفاقی اور ریاستی سکیورٹی ادارے نہ تو ان جرائم سے متعلق حقائق کا پتہ چلا سکے اور نہ ہی انہیں روکنے میں کامیاب ہو سکے'۔

نوربٹ لامرٹ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا جرمن حکومت پر لازم ہے کہ جرمن آئین جن بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے، وہ یہاں رہنے والے تمام لوگوں کے لیے بلاتفریق ہیں'۔ انہوں نےکہاکہ رنگ ونسل اور عقائد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جرمنی میں بسنے والے تمام افراد کے حقوق یکساں ہیں اور انہی یقینی بنانا جرمنی کا فرض ہے۔

Deutschland Bundesverfassungsgericht Karlsruhe Euro-Hilfen Bundestagspräsident Norbert Lammert

جرمن وفاقی اسپیکر نوربٹ لامرٹ

جرمن پارلیمان نے مشترکہ طور پر زور دیا کہ 2000ء تا 2007ء کے دوران ہونے والی ان ہلاکتوں کی جامع اور مکمل تحقیقات ہونی چاہییں اور جرمنی کے خفیہ اور سلامتی کے اداروں میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے چاہییں۔

جرمن پولیس نے رواں ماہ ہی میں پتا لگایا تھا کہ آٹھ ترکوں، ایک یونانی اور ایک خاتون جرمن پولیس اہلکار کی ہلاکت کے پیچھے ایک چھوٹے سے انتہا پسند گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے تک ان ہلاکتوں کا معمہ حل نہیں ہو سکا تھا۔

ناقدین کا خیال ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے جرمن خفیہ اداروں کا زیادہ تر دھیان مسلم انتہا پسندی کی طرف رہا ہے، جس کی وجہ سے نیو نازی گروپ کی کارروائیاں نوٹ نہ کی جا سکیں۔

اپوزیشن نے میرکل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا ہے کہ اس نے نیونازی ازم کے خطرےکو مطلوبہ توجہ نہیں دی،جس کے نتیجے میں انہیں کھلی چھوٹ ملی۔

دریں اثناء جرمن سکیورٹی اداروں نے 1998ء تک کے ان تمام غیر حل شدہ کیسوں کو دوبارہ جانچنا شروع کر دیا ہے، جن میں ممکنہ طور پر نسل پرستی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس