1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہسپانوی بچتی پروگرام: بال برابر اکثریت سے منظوری

یورپی ملک سپین میں سوشلسٹ حکومت سالانہ بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کی کوششیں کرتے ہوئے پارلیمان میں بہت ہی معمولی اکثریت سے ایک اور مالی بچتی پروگرام منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی۔

default

جزیرہ نما آئبیریا کی ریاست سپین یورپی یونین میں شامل یورو زون کے ان ملکوں میں شمار ہوتا ہے، جنہیں اپنے ہاں عوامی شعبے میں انتہائی حد تک زیادہ قرضوں اور سالانہ بجٹ میں خسارے کا سامنا ہے۔

اپنے لئے اس طرح کے مالیاتی حالات سے بچنے کے لئے جن کا سامنا یورو زون کے ایک اور ملک یونان کو کرنا پڑ رہا ہے، ہسپانوی حکومت نے یہ کوششیں کافی عرصے پہلے ہی شروع کر دی تھیں کہ یہ ملک تقریبا ریاستی دیوالیہ پن کی حد تک نہ پہنچ جائے۔

Spanien Ministerpräsident Jose Luis Rodriguez Zapatero

ہسپانوی وزیر اعظم ساپاتیرو

اس مقصد کے لئے میڈرڈ میں سوشلسٹ رجحانات رکھنے والی ملکی حکومت نے 2009 میں اربوں یورو کا ایک مالی بچتی پروگرام بھی منظور کیا تھا۔ لیکن جب یہ آثار واضح ہونے لگے کہ یہ مالیاتی منصوبہ بھی ان اہداف کے حصول کے لئے کافی نہیں ہو گا جو میڈرڈ حکومت کی اولین ترجیح بن چکے ہیں، تو وزیر اعظم ساپاتیرو کی قیادت میں حکومت نے ایک ایسا اضافی بچتی پیکیج بھی تیار کیا جس کے تحت اگلے سال یعنی سن 2011 تک ریاستی اخراجات میں مزید 15 بلین کی بچت کی جائے گی۔

سپین میں جہاں کارکنوں کی تنظیمیں، سرکاری ملازمین اور عام شہری پہلے ہی حکومت کی مالیاتی سیاست کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، اس نئے پیکیج کو پارلیمان سے منظور کروانا ایک بڑا امتحان تھا۔ لیکن جمعرات کی شام وزیر اعظم خوسے لوئیس ساپاتیرو کی حکومت قومی پارلیمان میں اس نئے مالیاتی مسودہ قانون کو صرف ایک ووٹ کی انتہائی معمولی اکثریت سے منظور کروانے میں کامیاب تو ہو گئی، لیکن اس طرح کہ یہ پارلیمانی بل بس ناکام ہوتے ہوتے رہ گیا۔

اس مسودہء قانون کےحق میں 169 اور مخالفت میں 168 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 13 اراکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس نئے کفایت شعاری پروگرام کے تحت میڈرڈ حکومت ان ریاستی اخراجات میں اگلے سال تک مزید 15 بلین یورو کی کمی کرے گی، جو ماضی کے مقابلے میں پہلے ہی بہت کم کئے جا چکے ہیں۔

Proteste Klimagipfel Kopenhagen

سپین میں مزدور اتحاد حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں

اس نئے بچتی منصوبے پر عمل درآمد اس طرح کیا جائے گا کہ چند روز بعد یکم جون سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اوسطا پانچ فیصد کی کمی ہو جائے گی اور ساتھ ہی عوامی شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی مالیت بھی قریب چھ بلین یورو کم کر دی جائے گی۔

یہی نہیں اگلے برس ملک میں پینشن یافتہ شہریوں کو کی جانے والی ماہانہ ادائیگیوں میں سالانہ بنیادوں پر افراط زر کی مناسبت سے معمول کا کوئی نیا اضافہ بھی نہیں کیا جائے گا اور ساتھ ہی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی بڑھا دی جائے گی۔

سپین کو ماضی میں سالانہ بجٹ میں خسارے کو پورا کرنے کے لئے قدرے لاپرواہی سے لئے جانے والے نئے قرضوں اور پھر بین الاقوامی مالیاتی بحران کے تکلیف دہ اثرات کی وجہ سے جن شدید نوعیت کے مالی مسائل کا سامنا ہے، ان سے نکلنے کے لئے ساپاتیرو حکومت نے گزشتہ برس بھی ایک وسیع تر بچتی پروگرام منظور کیا تھا جس کی مالیت 50 بلین یورو بنتی تھی۔

اب اس نئے بچتی پروگرام کا فوری مقصد یہ ہے کہ ہسپانوی بجٹ میں خسارے کی موجودہ سالانہ شرح کو، جو مجموعی قومی پیداوار کے 11.2 فیصد کے قریب بنتی ہے، 2013 تک بہت کم کر کے تین فیصد سے بھی کم کی سطح تک لایا جائے۔ اس لئے کہ سالانہ بنیادوں پر ملکی بجٹ میں خسارے کی تین فیصد کی یہی وہ زیادہ سے زیادہ شرح ہے جس کی یورو زون کی کسی بھی ریاست کو یورو استحکامی معاہدے کے تحت اجازت ہوتی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM