1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہزارے کی بھوک ہڑتال، بھارتی وزیراعظم کی تنقید

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے انسداد بدعنوانی کے لیے کام کرنے والے کارکن انا ہزارے کی جانب سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کو ’قطعی غلط‘ قرار دیا دیتے ہوئے اسے جان بوجھ کر تصادم کی صورتحال پیدا کرنے سے تعبیر کیا ہے۔

default

بدھ کے روز منموہن سنگھ نے پارلیمان سے خطاب کے دوران کہا کہ ایسی بھوک ہڑتال بھارتی پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ’’جو راستہ انہوں نے چنا ہے، وہ قطعی غلط ہے اور اس کے پارلیمانی جمہوریت پر تباہ کن اثرات پڑ سکتے ہیں۔‘‘

بھارتی وزیراعظم کے اس خطاب کے دوران اپوزیشن بینچوں سے ’شرم کرو‘ جیسے نعرے بھی بلند ہوتے رہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ ہزارے کے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان کے ذریعے پارلیمان میں پیش کردہ انسداد بدعنوانی بل میں تبدیلیوں کے لیے دباؤ کی وجہ سے حکومت کو غیرآئینی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بنانا صرف اور صرف پارلیمان کا اختیار ہے،’مسئلہ یہ ہے کہ کون مسودہ قانون تشکیل دے رہا ہے اور کون قانون بنا رہا ہے۔‘

Anna Hazare Zivilrechtskämpfer Aktivist Indien

بھوک ہڑتال کا اعلان کرنے والے انا ہزارے

منموہن سنگھ کی جانب سے یہ بیان منگل کے روز ہزارے کو حراست میں لیے جانے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہرون کے بعد سامنے آیا ہے۔ انا ہزارے نے منگل کی صبح نئی دہلی کے ایک عوامی پارک میں تادم مرگ بھوگ ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا۔ منگل کی شام ہزارے کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، تاہم انا ہزارے نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل چھوڑنے سے انکار کر دیا، تاکہ ان کی تادم مرگ بھوک ہڑتال آگے بڑھتی رہے۔

منموہن سنگھ نے ہزارے کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے دی گئی ہدایات نہ ماننے کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا، کیونکہ پولیس نے انہیں تین روز تک بھوک ہڑتال کی اجازت دی تھی۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ ہزارے کا یہ اعلان ان کے ’خودساختہ انسداد بدعنوانی بل‘ کی ترجمانی کرتا ہے، جو ناقابل قبول اور غیر جمہوری ہے۔

بھارت میں ان دنوں ملک میں ہونے والی کرپشن میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے اور انا ہزارے اس کے انسداد کی کوششوں کے حوالے سے ایک ’نمایاں شخصیت‘ کے طور پر دیکھے جانے لگے ہیں۔ انا ہزارے کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پارلیمان میں پیش کردہ انسداد بدعنوانی بل کمزور ہے اور اس میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM