1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہزارہا شامی مہاجر عید الاضحیٰ منانے ترکی سے واپس شام پہنچ گئے

ترکی میں پناہ لینے والے ہزاروں شامی تارکین وطن مذہبی تہوار عیدالاضحیٰ منانے واپس اپنے وطن پہنچ گئے ہیں۔ ترک حکام نے عارضی تحفظ کے اسٹیٹس والے مہاجرین کے واپس ترکی آنے کے لیے اندراج کا ايک نظام قائم کیا ہے۔

Türkei Syrische Rückkehrer an der Grenze Cilvegozu (REUTERS/U. Bektas)

عید کی غرض سے شام جانے والے مہاجرین کو پندرہ اکتوبر تک ترکی واپس آنا ہو گا

ترک صوبے کِلس کی اونکوپنار نامی سرحدی چوکی پندرہ اگست سے کھول دی گئی ہے جہاں شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کوسخت گرمی میں سرحد پار کرنے کا انتظار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ترک حکام کے مطابق چار ہزار يوميہ کی اوسط تعداد کے حساب سے اب تک قریب چالیس ہزار شامی تارکین وطن بارڈر پار کر کے اپنے وطن شام واپس جا چکے ہیں۔ ان میں سے متعدد نے شمالی شام کے علاقوں کا رخ کیا ہے جو ترک آرمی کے آپریشن ’فرات شیلڈ‘ کے بعد سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔ عید کی غرض سے شام جانے والے مہاجرین کو پندرہ اکتوبر تک ترکی واپس آنا ہو گا۔

رواں برس جون میں بھی مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالفطر کے موقع پر ترکی میں مقیم شامی پناہ گزینوں کو ترک حکام نے عارضی طور پر گھر جانے کی اجازت دی تھی۔ اُس وقت قریب ایک لاکھ تاکین وطن سرحد پار کر کے شام پہنچے تھے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ترکی قریب تین ملین شامی مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہا ہے، جو دنیا میں کسی بھی ملک میں شامی مہاجرین کی کُل تعداد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

صرف استنبول میں ہی پانچ لاکھ کے قریب شامی تارکین وطن مقیم ہیں۔ خاص طور پر ترکی کے سرحدی علاقوں میں شامی مہاجرین کا تناسب وہاں کی کُل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

 یہی حال ترک صوبے کیلس میں بھی ہے جہاں ہر ایک ترک شہری کے مقابلے میں ایک شامی مہاجر موجود ہے۔ شامی بحران کے آغاز کے بعد سے اب تک ترکی میں پناہ گزین شامی جوڑوں کے ہاں قریب دو لاکھ شامی بچوں کی ولادت بھی ہوئی ہے۔

DW.COM