ہزارہا روہنگیا مسلمان ایک ویران جزیرے پر آباد کرنے کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 30.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہزارہا روہنگیا مسلمان ایک ویران جزیرے پر آباد کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش نے ہمسایہ ملک میانمار سے آنے والے ہزارہا روہنگیا مسلمان مہاجرین کو ایک ایسے ویران جزیرے پر آباد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو انسانوں کے رہنے کے لیے مناسب نہیں اور جہاں ہمیشہ سیلاب کا خطرہ رہتا ہے۔

Bangladesch St. Martin’s Island (DW/M. Mamun)

خلیج بنگال میں ایک بنگلہ دیشی جزیرے کا منظر (فائل فوٹو)

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تمام تر انتباہات کے باوجود ڈھاکا حکومت روہنگیا مسلمانوں کو اِس دُور دراز جزیرے پر بسانے کے متنازعہ فیصلے کو عملی شکل دینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں ساحلی اضلاع کے حکام پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے۔ ساتھ ساتھ سرکاری اہلکاروں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ میانمار کے غیر رجسٹر شُدہ شہریوں کی شناخت اور اُنہیں خلیج بنگال کے تھینگر چار نامی جزیرے پر آباد کرنے میں مدد دیں۔

کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے اور آن لائن پوسٹ کیے گئے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے: ’’کمیٹی میانمار سے آئے ہوئے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کو ضلع نواکھلی میں ہاتیہ آئی لینڈ کے قریب تھینگر چار نامی جزیرے پر آباد کرنے میں مدد دے گی۔‘‘

یہ جزیرہ دریائے میگھنا کے دہانے پر واقع ہے اور اُن کیمپوں سے نو گھنٹے کے فاصلے پر ہے، جہاں ان روہنگیا مہاجرین نے آج کل پناہ لے رکھی ہے۔

تقریباً دو لاکھ بتیس ہزار روہنگیا مسلمان پہلے سے بنگلہ دیش میں رہ رہے تھے جبکہ گزشتہ سال اکتوبر سے مزید روہنگیا میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں ہونے والی پُر تشدد کارروائیوں سے تنگ آ کر ہمسایہ بنگلہ دیش میں داخل ہونا شروع ہوئے۔

Bangladesch Rohingya Flüchtlinge (Getty Images/AFP/M. Uz Zaman)

میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش پہنچنے والے زیادہ تر روہنگیا مسلمان انتہائی خستہ حال کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں

راکھین کی سرحد سے قریبی بنگلہ دیشی شہر کوکس بازار ہے، جو ملک کا سب سے بڑا سیاحتی مقام بھی ہے اور جہاں میانمار سے بھاگ کر آنے والے زیادہ تر روہنگیا مسلمان انتہائی خستہ حال کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام سے میانمار کے ایسے شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے بھی کہا گیا ہے، جو ’غیر قانونی طور پر‘ ملک میں داخل ہوئے ہوں۔ سرکاری فر مان میں، جس پر چھبیس جنوری کی تاریخ درج ہے، کہا گیا ہے، ’’’اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ وہ (مہاجرین) ملک کے اندر پھیل نہ جائیں اور مقامی آبادی میں نہ گھُلیں ملیں‘‘۔ اس حکم کے مطابق، ’’جو مہاجرین مخصوص علاقوں سے باہر جانے کی کوشش کریں، اُنہیں واپس کیمپوں میں بھیج دیا جائے یا گرفتار کر لیا جائے‘‘۔

بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کو اس ویران جزیرے پر بسانے کے بارے میں غور و خوض 2015ء سے جاری ہے حالانکہ روہنگیا کمیونٹی کے رہنماؤں اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی ایسے اعتراضات سامنے آ چکے ہیں کہ ابھی یہ جزیرہ انسانوں کی رہائش کے قابل نہیں ہے اور زبردستی ان مہاجرین کو وہاں بسانا ’بہت ہی پیچیدہ اور متنازعہ عمل‘ ہو گا۔ دیگر ذرائع کے مطابق چھ ہزار ایکٹڑ رقبے پر پھیلا ہوا یہ جزیرہ بحری قزاقوں کی آماجگاہ ہے اور وہاں تک رسائی صرف موسمِ سرما ہی میں ممکن ہوتی ہے۔

Myanmar Rohingya Flüchtlinge - Flucht nach Bangladesh, Kontrollen (picture-alliance/NurPhoto/A. Rahman)

بنگلہ دیش کے سرحدی گارڈز میانمار کی جانب سے آنے والے روہنگیا مسلمانوں کو روکنے کے لیے پہرہ دے رہے ہیں

اگرچہ حکام نے اس جزیرے کو سیلاب وغیرہ سے بچانے کے لیے وہاں شجر کاری کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے تاہم ناقدین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے جزیرے کو محفوظ بنانے میں بھی کم از کم ایک عشرہ لگ جائے گا۔ ایک سرکاری  اہلکار نے اپنا نامی مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ مون سون کے دنوں میں یہ جزیرہ مکمل طور پر زیرِ آب آ جاتا ہے اور انسانوں کو وہاں بسانا ایک خوفناک بات ہو گی۔

یہ تجویز ایک ایسے وقت اُبھر کر سامنے آئی ہے، جب اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں ایک سہ رُکنی کمیشن کوکس بازار کے دورے پر ہے۔ مہاجرین نے اس کمیشن کے ارکان کو آبروریزی اور قتل کے واقعات کی ہولناک کہانیاں سنائیں۔

پچاس سالہ کمال حسین نے بتایا کہ کیسے فوج نے اُس کے پورے گاؤں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا اور اُس کے بھائی کو ہلاک کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ کر بنگلہ دیش آ گیا۔ اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے اُس نے کہا:’’ہم بھی واپس گھر جانا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں مہاجر کے طور پر نہیں رہنا چاہتے لیکن ہم یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہاں ہمیں مویشیوں کی طرح ذبح نہیں کر دیا جائے گا۔‘‘