ہزارہا انگلش ٹیچرز کی اپنی انگلش خراب، لیکن کس ملک میں؟ | معاشرہ | DW | 27.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہزارہا انگلش ٹیچرز کی اپنی انگلش خراب، لیکن کس ملک میں؟

ملائیشیا کے سینکڑوں تعلیمی اداروں میں انگریزی پڑھانے والے ایسے پندرہ ہزار اساتذہ کو دوبارہ انگریزی زبان کے تربیتی مراکز میں بھجوایا جا چکا ہے، جو اس قابل نہیں تھے کہ طلبہ کو اس مضمون کی تسلی بخش تعلیم دے سکیں۔

کوآلالمپور سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ملکی میڈیا نے بتایا کہ ان 15 ہزار کے قریب ٹیچرز کا امتحان لینے پر معلوم ہوا تھا کہ انہیں خود انگریزی زبان پر اس حد تک عبور حاصل نہیں تھا کہ وہ بچوں کو ایک اہم غیر ملکی زبان کے طور پر اچھی طرح انگلش پڑھا سکیں۔

اس بارے میں ملائیشیا کے نائب وزیر تعلیم چونگ سِن وُون نے کہا کہ اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے تعلیمی اداروں میں انگریزی زبان کے عمومی معیار میں گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل تنزلی دیکھنے میں آ رہی تھی۔ تاہم اب ملکی وزارت تعلیم نے تہیہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو ہر حال میں حل کیا جائے گا۔

نائب وزیر تعلیم نے انگریزی روزنامے ’ڈیلی سٹار‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے یہ سلسلہ 2013ء میں شروع کیا تھا۔ اب تک 15 ہزار اساتذہ کو دوبارہ انگریزی زبان کے ٹریننگ کورسز کے لیے بھیجا جا چکا ہے۔‘‘

چونگ سِن وُون نے کہا، ’’ایسے اساتذہ جو کیمبرج پلیسمینٹ ٹیسٹ اور برٹش کونسل کے Aptis انگلش ٹیسٹ میں تسلی بخش اسکور حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، ہم ان میں سے ہر کسی کو چھ ماہ دورانیے کے انگلش ٹریننگ کورسز کے لیے بھیج دیتے ہیں۔‘‘

نائب وزیر تعلیم نے ’ڈیلی سٹار‘ کو یہ بھی بتایا کہ جو اساتذہ چھ ماہ کے تربیتی کورس کے بعد بھی انگریزی زبان کے ٹیچنگ امتحانات میں کافی مجموعی اسکور حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، ان کے ملکی تعلیمی اداروں میں انگریزی زبان پڑھانے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔