1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہزاروں مہاجرین کی لائف جیکٹوں سے بنایا گیا امن کا نشان

سمندر میں ڈوبنے سے بچانے والی لائف جیکٹوں نے گزشتہ برس ہزارہا مہاجرین کی جانیں بچائیں۔ لیکن کئی افراد انہیں پہن کر بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔ اب یونانی جزیرے لیسبوس پر انہی جیکٹوں کی مدد سے امن کا نشان بنایا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایتھنز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یونان کے جزیرے لیسبوس پر تارکین وطن کی یاد میں تین ہزار لائف جیکٹوں کی مدد سے امن کا نشان بنا دیا گیا ہے۔ امن کا یہ نشان ’ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز‘ اور ’گرین پیس‘ سمیت کئی فلاحی اداروں کے سو سے زائد رضاکاروں نے بنایا۔

بحیرہ ایجیئن عبور کرنے کے لیے تارکین وطن عام طور پر چھوٹی کشتیوں میں سفر کرتے ہیں اور وہ سمندر میں ڈوبنے سے بچنے کے لیے لائف جیکٹیں بھی پہنتے ہیں۔ امن کا نشان مہاجرین کے زیر استعمال رہنے والی انہی نارنجی رنگ کی لائف جیکٹوں کو جوڑ کر بنایا گیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق امن کے یہ نشان بنانے کے لیے جو جیکٹیں استعمال کی گئیں، ان میں کئی ایسی بھی ہیں جن کو پہننے والے بحیرہ ایجیئن میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

اے ایف پی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس نشان کو یونانی جزیرے لیسبوس میں ایک ایسے مقام پر بنایا گیا ہے جو سمندر میں سفر کرتے ہوئے دور سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

2015ء میں شام، عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک سے جنگوں اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجموعی طور پر دس لاکھ سے زائد مہاجرین یورپ پہنچے۔ سردیوں کے موسم میں اگرچہ تارکین وطن کی آمد میں کمی دیکھی گئی تاہم اس کے باجود صرف دسمبر کے مہینے میں ایک لاکھ سے زائد پناہ گزین لیسبوس اور یونان کے دیگر جزیروں پر پہنچے۔

صرف لیسبوس پہنچنے والے تارکین وطن کی کل تعداد پانچ لاکھ سے زائد رہی تھی۔ ترک ساحلوں سے لیسبوس تک کے اس خطرناک سمندری سفر کے دوران سات سو سے زائد پناہ گزین ڈوب کر ہلاک بھی ہوئے جن میں بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد شامل تھی۔

اسی جزیرے پر ایک معروف چینی فنکار آئی وے وے بھی موجود ہیں۔ وہ بحیرہ ایجیئن میں ڈوب ہلاک ہونے والے تارکین وطن کے لیے ایک یادگار بنانے میں مصروف ہیں۔ وے وے نے اے ایف پی سے کی گئی ایک گفتگو میں کہا، ’’کئی انسان ان لہروں کی نذر ہوئے، ہمیں ان کے لیے یادگار بنانا چاہیے۔‘‘

DW.COM