ہزاروں محصور شہری عراق فوج کی پیشقدمی میں بڑی رکاوٹ | حالات حاضرہ | DW | 03.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہزاروں محصور شہری عراق فوج کی پیشقدمی میں بڑی رکاوٹ

عراق کی فوج الانبار صوبے کے دارالحکومت رمادی پر قبضے کے بعد اب بقیہ شہروں پر قابض ہونے کی کوشش میں ہے۔ حکومتی فوج اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے مزید شہریوں کی اندرونِ ملک نقل مکانی جاری ہے۔

default

عراقی فوجی ملکی جھنڈا بلند کرتے ہوئے

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی خواہش ہے کہ اُن کی فوج جلد از جلد مؤثر انداز میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ‘ کو ملک کے ہر کونے سے بتدریج نکال دے۔ رمادی پر قبضے کے بعد دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے کی پلاننگ جاری ہے۔ العبادی کا خیال ہے کہ سنی انتہا پسند تنظیم کو جہاں کار ضرب پہنچے گی وہیں حکومتی فوج کی ساکھ اور حکومتی اختیار میں اضافہ بھی ہو گا۔الانبار صوبے میں عراقی فوج کو محصور شہریوں کی موجودگی کے باعث اپنی پیش قدمی کو سست کرنا پڑا ہے۔ رمادی کے بعد اب عراقی فوج اِس صوبے کے اُن حصوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو ابھی تک اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

گزشتہ ایام کے دوران عراقی فوج نے الانبار صوبے کے شہر ھیت کے نواحی علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔ ھیت شہر کے اندرونی حصے پر بدستور جہادی کنٹرول قائم ہے لیکن انہیں عراقی فوج کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اِس شہر کی ایک جیل پر قبضے کے بعد اُس میں مقید پندرہ سو افراد کو رہائی دی گئی ہے۔ عراقی فوج کے انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی زمینی دستے کے ایک کپتان نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ سویلین افراد کو محفوظ رکھنے کے لیے پھونک پھونک کر قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ عراقی فوج کے مطابق ھیت شہر میں بیس ہزار سویلین محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

Symbolbild IS Soldaten

دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی

دوسری جانب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بےشمار محصور شہری ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے مقبوضہ علاقوں سے چھپتے چھپاتے قریبی شہروں میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ موصل پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ قابض ہے اور اِس کے مقبوضہ علاقوں سے عام شہری بچ بچا کر خاص طور پر مخمور نامی شہر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مخمور شہر پر کرد پیش مرگا کو کنٹرول حاصل ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ موصل کے گرد و نواح کے قصبوں اور دیہات میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی دندناتے پھرتے ہیں۔

شمالی عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے ظلم و جبر سے بچ کر کرد کنٹرول کے علاقے میں پہنچنے والوں کو کرد فوج پیش مرگا کی کڑی چھان بین کا سامنا ہوتا ہے۔ پیش مرگا کا مؤقف ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ اِن عراقیوں کے بھیس میں اسلامک اسٹیٹ کے جہادی کہیں کرد علاقے میں گھُسنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ مخمور شہر میں پناہ لینے والے عراقیوں کو ابتدا میں پیش مرگا کے فائٹرز دوہری باڑ والے علاقے میں مقید کرتے ہیں۔ اِس دوران اُن کی مکمل اسکریننگ کرنے کے ساتھ اُن کے موبائل کا ڈیٹا بھی چیک کیا جاتا ہے۔ پیش مرگا کے ایک افسر لیفٹیننٹ کرنل مہدی یونس نے واضح کیا کہ وہ پناہ لینے والے افراد کے حوالے سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ یہ لوگ اسلامک اسٹیٹ کے ہمدرد نہیں ہیں۔

DW.COM