1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہزاروں تارکینِ وطن کے جرمن حکومت کے خلاف مقدمات

جرمنی میں پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی پناہ کے جرمن نظام کے خلاف اپنی شکایات لے کر عدالتوں کا رخ کر رہی ہے۔ صرف صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ہی ایسے مقدموں کی تعداد میں گزشتہ سال خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

Deutschland Protest in Berlin gegen die Eroberung Aleppos (Imago/C. Mang)

متعدد پناہ گزینوں نے جرمنی میں مہاجرت کے اُمور کے نگران وفاقی ادارے ’بی اے ایم ایف‘ پر سستی روی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمات دائر کیے ہیں

سن 2016 میں ایسے مقدمات کی تعداد قریب 47،300 ہو گئی جبکہ اِس سے ایک برس قبل یعنی سن 2015 میں یہ تعداد 21،300 تھی۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ مقدمات کی تعداد میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے اور مستقبل میں اِس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ رابرٹ زیگ مّلر جرمن انتظامی ججز کی تنظیم کے سر براہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ سن 2017 میں سیاسی پناہ کے نظام کے خلاف جرمنی میں مقدمات کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔

متعدد پناہ گزینوں نے جرمنی میں مہاجرت کے اُمور کے نگران وفاقی ادارے ’بی اے ایم ایف‘ پر سستی روی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمات دائر کیے ہیں۔ اِن مہاجرین کا موقف ہے کہ وہ سیاسی پناہ کی اپنی درخواستوں پر کارروائی کے لیے ایک سال سے انتظار کر رہے ہیں۔ اور جب تک یہ کارروائی نہیں ہو جاتی، تارکینِ وطن جرمن زبان سیکھنے کے لیے مختص کورسز میں حصہ لینے یا ملازمت کرنے کے مجاز نہیں۔ دوسری جانب شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اپنے خاندانوں کے ساتھ یکجا نہ کیے جانے کے خلاف مقدمات دائر کر رہی ہے۔

 مارچ سن 2016 میں جرمن حکومت نے پناہ کے لیے نئے قوانین منظور کیے تھے۔ عارضی تحفظ ایسے مہاجرین کو دیا جاتا ہے جو یہ ثابت نہ کر سکیں کہ اُن پر واقعی ظلم ہوا۔ جرمن حکومت شامی مہاجرین کو جنگ زدہ علاقوں میں واپس نہیں بھیجی گی تاہم جرمن آئین کی رُو سے پناہ کا حق صرف اُن لوگوں کو ملتا ہے جنہیں سیاسی طور پر ستایا گیا ہو۔

Oberlandesgericht München Gebäude (imago stock&people)

شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اپنے خاندانوں کے ساتھ یکجا نہ کیے جانے کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کر رہی ہے

 جرمن آئین کے تحت سیاسی کا پناہ ملنا ایسے مہاجرین پر لاگو نہیں ہوتا جو خانہ جنگی جیسی صورتِ حال سے بھاگے ہوں۔ ماضی میں شامی مہاجرین کے ساتھ خصوصی سلوک کیا جاتا تھا اور عموماﹰ اُنہیں پناہ دے دی جاتی تھی۔ تاہم یہ صورتِ حال گذشتہ موسمِ بہار میں نئے قانون کے آنے سے تبدیل ہو گئی ہے۔ اب بہت سوں کو پناہ کے بجائے عارضی تحفظ دیا جاتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اِن تارکینِ وطن کو محض ایک سال کا رہائشی پرمٹ دیا جاتا ہے اور بعد میں اس میں توسیع کی جاتی ہے۔

 دوسری جانب وہ مہاجرین جنہیں پناہ مِل چکی ہو اُن کے لیے اِس دورانیے کی مدت تین برس ہے۔ عارضی تحفظ کے حامل مہاجرین میں بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ انہیں اپنے خاندان کو جرمنی بلانے کے لیے دو سال انتظار کرنا ہوتا ہے۔ دسمبر سن 2016 تک قریب36،000 تارکینِ وطن نے اِس امید پر عدالتوں سے رجوع کیا کہ شاید اُن کے عارضی تحفظ کے اسٹیٹس کو مکمل پناہ میں تبدیل کر دیا جائے۔

DW.COM