1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہزاروں امریکی حاجی، ٹرمپ کی پابندیوں پر تشویش میں مبتلا

رواں برس قریب 16 ہزار امریکی مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں، تاہم ان افراد کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں پہلی مرتبہ انہیں بیرون ملک سفر کے دوران کئی خدشات کا سامنا ہے۔

حج اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ سچی نیت کے ساتھ حج کی ادائیگی ان کے ماضی کے گناہوں سے چھٹکارے کا باعث بنتی ہے۔ رواں برس تاہم امریکی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ملک سے باہر سفر کرتے ہوئے کئی طرح کے خدشات میں مبتلا ہیںجس کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت کی پالیسیاں ہیں۔

رواں برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد ملک کے کئی ہوائی اڈوں پر مسافروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف شہروں میں بڑے مظاہرے دیکھے گئے تھے۔

سعودی عرب پہنچنے والے امريکی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں گو کہ کسی مسلمان کو عموماً بھی سفر کے دوران پریشانی کا سامنا رہتا ہے، تاہم حج کے لیے سعودی عرب کا رخ کرنے والے مسلمانوں کو خصوصاﹰ زیادہ پریشانی دیکھنا پڑ رہی ہے۔

حج کے لیے رواں برس دنیا بھر سے قریب دو ملین مسلمان سعودی عرب پہنچے ہیں، جن میں سے 16 ہزار کا تعلق امریکا سے ہے۔

Haddsch Islamische Pilgerfahrt nach Mekka | Kabaa, Große Moschee (Getty Images/AFP/K. Sahib)

دنیا بھر سے لاکھوں افراد حج کے لیے سعودی عرب میں ہیں

عازمینِ حج کے سفری انتظام کرنے والی امریکی کمپنی حج پروز کے مطابق، ’’ہم اب خوف کی سطح میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ عازمین کی سخت جانچ پڑتال ہے۔‘‘

اٹلانٹا میں قائم اس کمپنی کے مطابق رواں برس ایک مسلمان شہری کو تو آخر میں حج کرنے کا ارادہ ہی تبدیل کرنا پڑا، جس کی وجہ یہ تھی کہ مغربی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اس مسلمان خاتون نے گرین کارڈ میں نام کے اسپیلنگ میں غلطی پر نئے کارڈ کی درخواست دی، تاہم سفر کے لیے مقررہ وقت تک اسے وہ کارڈ نہ مل سکا۔ ’’اس خاتون کو خوف تھا کہ اگر اس نے پرانے گرین کارڈ پر سفر کیا، تو شاید امریکی حکام اسے ملک میں داخلے ہی سے روک دیں۔ اب اسے اگلے برس تک انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ رواں برس صدر ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے کے تحت چار مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی، جو ابتداء میں عدالتوں کی جانب سے رد کر دی گئی، تاہم بعد ازاں امریکی سپریم کورٹ نے اس پر جزوی عمل درآمد کے حق میں فیصلہ دیا۔