1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ہر پناہ گزين سکيورٹی کے لحاظ سے خطرہ ہے‘

ہنگری کے وزيراعظم وکٹور اوربان نے يورپ کے ليے اميگريشن کا زہر سے موازنہ کيا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو کسی ايک پناہ گزين کی بھی ضرورت نہيں۔

دائيں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے وزيراعظم وکٹور اوربان نے کہا، ’’ہنگری کی معيشت کو ايک بھی مہاجر کی ضرورت نہيں، نہ ملکی آبادی ميں کوئی درکار ہے اور نہ ہی ہنگری کے مستقبل کے ليے مہاجرين ناگزير ہيں۔‘‘ اوربان نے آسٹريا کے چانسلر کرسٹيان کرن کے دورے کے موقع پر دارالحکومت بوڈاپیسٹ ميں منگل چھبيس جولائی کو ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے يہ بيان ديا۔

يہ امر اہم ہے کہ ہنگری مہاجرين کی ايک کوٹے کے تحت مختلف رکن رياستوں ميں تقسيم سے متعلق يورپی يونين کے منصوبے کا سخت ترين مخالف ہی نہيں بلکہ بوڈاپیسٹ حکومت نے تو اس کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔ دو اکتوبر کو وہاں ملکی سطح پر ايک ريفرنڈم بھی کرايا جا رہا ہے جس کے ذريعے اس بارے ميں حکومتی موقف کے ليے عوامی حمايت لی جائے گی۔ سن 2015 ميں لاکھوں پناہ گزينوں نے مغربی يورپ تک پہنچنے کے ليے ہنگری اور آسٹريا کے راستے سفر کيا تاہم موسم خزاں ميں ہنگری کی جانب سے سرحد پر باڑ نصب کر ديے جانے اور اميگريشن کے حوالے سے سخت قوانين متعارف کرائے جانے کے بعد سے اس راستے سے ہونے والی ہجرت ميں نماياں کمی رونما ہوئی تھی۔

حاليہ دنوں ميں البتہ اس روٹ سے ہونے والی ہجرت ميں دوبارہ اضافہ نوٹ کيا جا رہا ہے، سال رواں ميں اب تک قريب اٹھارہ ہزار مہاجرين اس راستے سے مغربی يورپ پہنچے ہيں۔ اس کے ردعمل ميں ہنگری کی حکومت نے اسی ماہ سرحد پر مزيد سخت تر سکيورٹی نظام متعارف کرا دیا ہے۔

بوڈاپیسٹ ميں منگل کے روز پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکٹوراوربان نے کہا کہ اميگريشن کے حوالے سے کسی مشترکہ يورپی پاليسی کی ضرورت نہيں، جس ملک کو مہاجرين کی ضرورت ہے وہ انہيں پناہ فراہم کرے تاہم ہنگری پر جبری طور پر پناہ گزين مسلط نہ کيے جائيں۔ ہنگری کے وزيراعظم نے اپنے بيان ميں ہر ايک پناہ گزين کو سکيورٹی کے لحاظ سے خطرہ قرار ديا۔ انہوں نے مزيد کہا، ’’ہمارے ليے اميگريشن حل نہيں مسئلہ ہے، دوا نہيں زہر ہے۔‘‘

رواں ماہ کے آغاز ميں آسٹريا نے سربيا کی سرحد پر متعدد پوليس اہلکار تعينات کرنے کا کہا تھا۔ يہ وہی مقام ہے جہاں سے يوميہ بنيادوں پر صرف بيس پناہ گزينوں کو گزرنے ديا جاتا ہے تاکہ وہ سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرا سکيں۔ ويانا حکومت کے اس اقدام کو ملکی موقف ميں ايک واضح تبديلی کے طور پر ليا جا رہا ہے کيونکہ اس سے قبل آسٹريا ہنگری کی اميگريشن مخالف پاليسيوں کا سخت ناقد رہا ہے۔

مئی ميں آسٹريا کے چانسلر کا عہدہ سنبھالنے والے کرسٹيان کرن نے کہا کہ ہنگری کے سخت اقدامات کی بدولت آسٹريا اور جرمنی پہنچنے والے مہاجریں کی تعداد ميں کمی رونما ہوئی ہے۔ انہوں نے نہ بھی کہا کہ غير سرکاری تنظيموں کو سربيا ميں پھنسے ہوئے مہاجرين کی امداد کی اجازت دينی چاہيے۔ کرن اور اوربان نے ملاقات ميں مہاجرين کی آسٹريا سے ہنگری واپسی کے موضوع پر بھی تبادلہء خيال کيا۔