1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہر قسم کے وسائل کم ہو رہے ہیں: علی ترہونی

لیبیا میں باغیوں کی حمایت میں تین ماہ سے جاری نیٹو مشن کے اندر بھی دراڑیں پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں اور دوسری جانب باغیوں کی طرابلس کی جانب پیشقدمی انتہائی سست خیال کی جا رہی ہے۔

default

لیبیا میں باغیوں کے تیل اور مالیاتی معاملات کے لیے مقررچیف علی ترہونی کا کہنا ہے کہ مالی مسائل کے تناظر میں مغرب مثبت انداز میں پیش رفت سے قاصر ہے۔ ترہونی کے مطابق ان کے پاس ہر طرح کے وسائل میں کمی شروع ہو گئی ہے جس سے ان کے بقول مرتے لوگوں کو بچانا مشکل ہو چکا ہے لیکن مغرب اس مناسبت سے ذرا بھی فکر مند نہیں ہے۔ ترہونی کا واضح طور پر کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر مالی معاملات کی جانب توجہ نہ کی گئی تو تمام عسکری، مالی، سفارتی جدوجہد انجام کار مکمل ناکامی پر ختم ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار ترہونی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا۔

ایسے امکانات بھی سامنے آ گئے ہیں کہ باغیوں کے قبضے میں مشرقی علاقے میں تیل کی پیداوار کا عمل نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق علی ترہونی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیبیا کے باغی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ترہونی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان سے مغربی اقوام نے مالی معاملات میں وسعت دینے کے بڑے وعدے کیے تھے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

Tripolis Gaddafi Libyen Luftangriff NATO

طرابلس میں نیٹو کی بمباری سے تباہ شدہ ایک ہدف

ترہونی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مغرب کی جانب سے مالی وسائل لیبیا کے اثاثوں کو منجمد کرکے دیے جانے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے۔ ترہونی نے مغربی اقوام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ باغیوں اور لیبیا کی اندرونی صورت حال کے حوالے سے ہونے والی کانفرنسوں اور میٹنگوں میں مغربی ممالک کے نمائندے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن عملی شکل میں اس کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب لیبیا میں جاری نیٹو مشن کے اتحادیوں کی سوچ میں بھی دراڑیں پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ اتحادی اب تین ماہ سے جاری اس مشن کو ایک تھکا دینے والا عمل خیال کرنے لگے ہیں۔ امریکی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ نیٹو کے یورپی اتحادی پوری طرح سے اس مشن میں شرکت سے ابھی تک قاصر ہیں۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران باغیوں نے خاصی اہم پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا تھا لیکن طرابلس کی جانب ان کا سفر اس کے باوجود سست خیال کیا جاتا ہے۔ اس دوران نیٹو کے جنگی طیاروں کی بمباری کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن طرابلس ہنوز دور کی مسافت ہے۔ باغی اپنے ملک کے قبائلیوں کے ساتھ بات چیت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تا کہ وہ اپنی افرادی قوت میں کسی طور خاطر خواہ اضافہ کر سکیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس