1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہر سال پانچ لاکھ مہاجرین کو قبول کر سکتے ہیں، گابریئیل

جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئیل نے کہا ہے کہ جرمنی اگلے کئی برسوں تک مہاجرین کی ایک معقول تعداد کو اپنے ہاں پناہ دے سکتا ہے۔ جرمنی میں ہنگری اور دیگر علاقوں سے تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئیل کے بقول جرمنی اس قابل ہے کہ وہ اگلے کئی برسوں تک ہر سال پانچ لاکھ تک مہاجرین کو قبول کر سکتا ہے۔ زیڈ ڈی ایف نامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے گابریئیل کا مزید کہنا تھا ’ میرا خیال ہے کہ ہم یقینی طور پر ہر سال نصف ملین مہاجرین تک کے لیے انتظامات کر سکتے ہیں۔‘‘ گابریئیل جرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکیرٹک پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ میں اس حوالے سے کسی شک و شبے کا شکار نہیں ہوں شاید اس سے زیادہ تعداد میں بھی ہم تارکین وطن کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

اندازوں کے مطابق رواں برس کے دوران آٹھ لاکھ افراد جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائیں گے۔ یہ تعداد 2014ء کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ بات چیت کے دوران زیگمار گابریئیل نے زور دے کر کہا کہ دیگر یورپی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ’’ یورپی یونین کے دیگر ارکان کو بھی جنگ سے متاثرہ افراد کی منصفانہ تقسیم کے فیصلے کی تائید کرنی چاہیے۔‘‘ ان کے بقول جرمنی ہر سال دس لاکھ افراد کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی جرمن معاشرے میں ان کے انضممام کے انتظامات کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق جرمنی پہلے ہی یورپی یونین میں اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ ’’ ہماری اقتصادی صورتحال بھی مستحکم ہے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ امر قابل قوبل نہیں کو یورپی یونین صرف کچھ ممالک پر ہی بھروسہ کیے ہوئے ہے، جن میں جرمنی کے علاوہ سویڈن اور آسٹریا بھی شامل ہیں۔ ’’ اسی لیے میں اس حوالے سے یورپی پالیسی میں اصلاحات پر زور دے رہا ہوں‘‘۔