1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہر سال سینکڑوں خواتین غیرت کے نام پر قتل

ہر سال پاکستان میں سینکڑوں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہی مسئلہ شرمین عبید چنائے کی فلم کا موضوع بھی جسے آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

فیاض خان جنوری 2015ء کی ایک سرد صبح کو جاگا تو دیکھا کہ اس کی ایک بہن اور اس کے تین معصوم بچوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا میں یہ قتل بظاہر اس کے بہنوئی نے کیے تھے۔

فیاض خان کی 25 سالہ بہن بخمینہ کی شادی 10 برس قبل عمر آفریدی سے ہوئی تھی لیکن اس کے شوہر کو شک تھا کہ اس کے تعلقات کسی اور شخص کے ساتھ ہیں۔ عمر آفریدی نے اپنی عزت کے نام پر اپنی بیوی بخمینہ اور اپنے تین بچوں کو ذبح کر دیا تھا۔

اپنے موبائل فون پر قتل ہونے والی اپنی بہن اور بچوں کی خون میں ڈوبی تصاویر دکھاتے ہوہے فیاض خان کا کہنا تھا، ’’یہ ہمارے لیے انتہائی خوفناک تھا۔‘‘ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق پاکستان میں عزت کے نام پر قتل اکثر سننے میں آتے رہتے ہیں۔ کسی غیر مرد کے ساتھ جنسی تعلقات کے علاوہ بعض اوقات ایسی وارداتیں اس صورت میں بھی ہو جاتی ہیں جب کسی خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے۔ پسماندہ علاقوں میں اسے خاندان کی عزت پر لگا داغ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

فیاض خان کی ایک اور بہن سعدیہ کو اس واقعے سے ایک برس قبل یعنی 2014ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ سعدیہ کو بھی اس کے اپنے ہی شوہر نے قتل کیا تھا۔ اس کے شوہر کا الزام تھا کہ سعدیہ کے اس کے کزن کے ساتھ تعلقات تھے اور اسی لیے اس نے دونوں کو قتل کر دیا۔ اب 32 سالہ فیاض خان اور اور اس کے 24 سال بھائی عمران خان پر سعدیہ کے چار بچوں کو پالنے کی ذمہ داری بھی عائد ہے جو ٹیکسی چلا کر گزر بسر کرنے والے ان دونوں بھائیوں کی کم آمدنی کے سبب ایک مشکل کام ہے۔

’اے گرل اِن دی ریور: دی پرائس آف فارگیونیس‘ میں شرمین نے واضح کیا ہے کہ کسی طرح ایسے قاتل اسلامی قانون سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس میں قتل ہونے والے فرد کے رشتہ دار مقتول کو معاف کر سکتے ہیں

’اے گرل اِن دی ریور: دی پرائس آف فارگیونیس‘ میں شرمین نے واضح کیا ہے کہ کسی طرح ایسے قاتل اسلامی قانون سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس میں قتل ہونے والے فرد کے رشتہ دار مقتول کو معاف کر سکتے ہیں

پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق 2014ء کے دوران پاکستان میں عزت یا غیرت کے نام پر 1000 سے زائد قتل ہوئے۔ یہ تعداد 2010ء کے مقابلے میں 800 زائد تھی۔

یہ مسئلہ دراصل شرمین عبید چنائے کی مختصر دورانیے کی ڈاکومنٹری کا موضوع بھی ہے جسے اتوار 28 فروری کو اس کیٹیگری میں آسکر ایوارڈ ملا ہے۔ ’اے گرل اِن دی ریور: دی پرائس آف فارگیونیس‘ میں شرمین نے واضح کیا ہے کہ کسی طرح ایسے قاتل اسلامی قانون سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس میں قتل ہونے والے فرد کے رشتہ دار مقتول کو معاف کر سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ قتل کی کوشش میں بچ جانے والی خواتین پر عام طور پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ ذمہ دار افراد کو بخش دیں اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی نہ کریں۔

شرمین عبید چنائے نے قبل ازیں 2012ء میں بھی اپنی ایک ڈاکومنٹری فلم ’سیونگ فیس‘ پر آسکر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ اس فلم میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کو موضوع بنایا گیا تھا۔ شرمین کی موجودہ فلم نے پاکستان میں ایک بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے چنائے کا کہنا تھا، ’’میں چاہتی تھی کہ یہ فلم پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل جیسے سوالات پر لوگوں کے درمیان بحث و مباحثے کا آغاز کرے۔‘‘ چنائے کے مطابق مثبت بات یہ ہے کہ اس سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔

گزشتہ شب اسٹیج پر آسکر ایوارڈ وصول کرتے ہوئے شرمین کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے یہ فلم دیکھنے کے بعد کہا ہے کہ وہ ملک میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے حوالے سے قانون کو تبدیل کریں گے۔