1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہر بیماری کا علاج تھپڑوں سے، معالج ملک بدر

تائیوان میں میڈیکل قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور خود کو عوامی طریقہء علاج کا ماہر قرار دینے والے ایک ایسے امریکی ’معالج‘ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جو مریضوں کا ’پٹائی کے ذریعے تھیراپی‘ سے علاج کرتا ہے۔

default

مار پیٹ کو ظلم تو کہا جا سکتا ہے لیکن ہر بیماری کے علاج کا ذریعہ نہیں

تائی پے سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس شخص کا نام ژیاؤ ہونگ چی ہے، جو ایک امریکی شہری ہے اور جو ایک سیاحتی ویزے پر تائیوان میں مقیم تھا۔

In der Moorbad-Klinik in Bad Doberan liegt Freitag, 28. Mai 2010, die Patientin Cordelia Warttmann in einer Moorbad-Wanne. Seit dem Jahr 1825 wird in Bad Doberan mit dem feuchten Erdreich Moor Patienten mit Gelenkschmerzen und gynaekologischen Erkrankungen Linderung beschert. Hierzu werden taeglich rund 35 Tonnen Niedermoor im nahegeliegendem Torfstich von Mai bis zum Frostbeginn im November gestochen. (apn Photo/Frank Hormann) --- Patient Cordelia Warttmann is seen in a clinic in Bad Doberan, northern Germany, during a mud bath therapy on Friday, May 28, 2010. (apn Photo/Frank Hormann)

کیچڑ میں نہا کر جوڑوں کے درد کے علاج کے لیے کی جانے والی فزیو تھیراپی کی ایک مثال

ساتھ ہی ’لوک تھیراپی‘ کرنے والے اس ڈاکٹر کو، جو ایک مصنف بھی ہے، 50 ہزار تائیوانی ڈالر یا 1600 امریکی ڈالر کے برابر جرمانے کی سزا بھی سنا دی گئی ہے کیونکہ وہ تائی پے میں حکام کی اجازت کے بغیر ہی ایک معالج کے طور پر کام کر رہا تھا۔

ژیاؤ ہونگ چی کا کہنا ہے کہ قدیم عوامی طریقہء علاج کی رو سے کسی بھی انسان کو لاحق بیماریوں، خاص کر دیرینہ امراض کا مریض کو پیٹ کو علاج کیا جا سکتا ہے۔

یہ امریکی شہری اس طریقہء علاج کو Slapping Therapy کا نام دیتا ہے اور ابھی حال ہی میں اس نے تائی پے میں اپنی ’شفا بخش صلاحیتوں‘ سے متعلق ایک تشہیری پروگرام میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد کے سامنے ایک مریضہ کا ایک بازو تھپڑ مار مار کر سرخ کر دیا۔

Inter Milan player Zlatan Ibrahimovic, fifth left, from Sweden tries to seperate fighting Inter Milan and Valencia players after their Champions League first knockout round, second-leg soccer match at the Mestalla stadium in Valencia, Spain, Tuesday, March 6, 2007. The match ended in a 0-0 draw with Valencia advancing to the next round. (AP Photo/Jasper Juinen)

یورپ میں فٹ بال کی چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں بہت سے کھلاڑیوں کے درمیان ہاتھا پائی کا ایک منظر: بیمار کوئی نہیں تھا، لیکن پٹائی بہت سے کھلاڑیوں کی ہو گئی

ہونگ چی کا دعویٰ ہے کہ پٹائی کے ذریعے تھیراپی سے کسی بھی مریض کے جسم میں کسی خاص جگہ پر موجود زہر کو اس طرح نکال دیا جاتا ہے کہ اس طرح توانائی کا جسمانی بہاؤ تیز رفتار ہو جاتا ہے اور مریض کو اس کے مرض سے نجات مل جاتی ہے۔

تائیوان میں ایک مقامی ٹیلی وژن پر ہونگ چی کے تشہیری پروگرام کا جو حصہ نشر کیا گیا، اس میں اس معالج نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ بہت زیادہ بلڈ پریشر اور دل کے مختلف امراض کے علاوہ چند ہی روز میں تھپڑ مار مار کر ذیا بیطس جیسی بیماری کا بھی سو فیصد علاج کر سکتا ہے۔

Lawmakers from the ruling Justice and Development Party, left, and lawmakers from the main opposition Republican People's Party exchange punches during a session of Parliament in Ankara, Turkey Monday, May 28, 2007. Turkish legislators renewed a debate Monday on a government-proposed constitutional amendment that would allow ordinary citizens _ rather than Parliament _ to elect the president. (AP Photo/Burhan Ozbilici)

اگر پٹائی سے ہر بیماری کا علاج ہو سکتا ہے تو پھر ترک پارلیمان کے ان ارکان میں سے بیمار کون ہے اور معالج کون؟

یہ چینی نژاد امریکی شہری علاج کے دوران اپنے مریضوں کی پٹائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے پٹھے بھی کھینچتا ہے کیونکہ ’پٹھے کھینچنے سے ان میں زہر کا ارتکاز ختم‘ ہو جاتا ہے۔ ژیاؤ ہونگ چی پر جادو کے ذریعے علاج کو رواج دینے کی کوششوں کا الزام بھی ہے اور اسے تائیوان چھوڑنے کے لیے سات روز کی مہلت دی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس folk therapist کی پٹائی کے ذریعے علاج یا Slapping Therapy کے موضوع پر تائیوان میں ہی ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے، جس کی اب تک پانچ لاکھ سے زائد کاپیاں بک چکی ہیں۔

تائی پے میں محکمہء صحت اور تارکین وطن سے متعلق ملکی ادارے کے حکام کے مطابق ہونگ چی اب تک چین، تائیوان اور امریکہ میں ’تھپڑوں سے علاج‘ کے اپنے طریقوں سے متعلق کئی تشہیری پروگراموں کا اہتمام کر چکا ہے، جن میں ہر مرتبہ ہی متجسس افراد کی بڑی تعداد شامل ہوئی تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس