1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہر بالغ شخص کے لیے ماہانہ ڈھائی ہزار ڈالر، سوئس ریفرنڈم

سوئٹزرلینڈ میں پانچ جون کو ایک ریفرنڈم کا انعقاد ہو رہا ہے، جس میں سوئس عوام اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ ملک بھر میں ہر بالغ شخص چاہے وہ کام کرے یا نہ کرے، اسے ماہانہ کم از کم ڈھائی ہزار ڈالر کے برابر رقم ملنی چاہیے۔

کم از کم ماہانہ آمدنی کا خیال بہت سادہ سا ہے، یعنی اگر آپ بالغ ہیں اور آپ کام کرتے ہوں یا نہ کرتے ہں، آپ کو کم از کم پچیس سو ڈالر ماہانہ کے برابر رقم ملتی رہے گی جب کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی چھ سو ڈالر ماہانہ کے برابر ادائیگی کی جائے گی۔ سوئس عوام پانچ جون کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے اسی بات کا فیصلہ کریں گے۔

سوئس حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی حمایت میں ووٹ نہ ڈالیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کم از کم آمدن مقرر کرنے سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا بلکہ یہ اقدام معاشرے کو بھی متاثر کرے گا۔ بعض ماہرین نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر کام کیے بغیر ہر بالغ شخص کو ماہانہ خرچہ دے دیا گیا، تو لوگوں میں کام کرنے کا رجحان بھی ختم ہو جائے گا۔

دوسری جانب اس کے حق میں مہم چلانے والوں کی رائے میں ایسا نہیں ہو گا بلکہ ان کی رائے میں ہر شہری کو کم از کم رقم مہیا کرنے سے نہ صرف ایک باوقار معاشرہ تشکیل پائے گا بلکہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں، جب کہ انسانوں کے بجائے مشینوں سے زیادہ کام لیا جا رہا ہے، عوامی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

گزشتہ مہینے ہر کسی کے لیے کم از کم لازمی ماہانہ آمدنی کے حق میں مہم چلانے والے کارکنوں نے دنیا کا سب سے بڑا بینر بھی تیار کیا تھا جسے گِنیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس بینر پر سنہری حروف میں درج تھا، ’’اگر آپ کو خرچہ حکومت دے تو آپ کیا کام کریں گے؟‘‘

Schweizer Franken

بالغ شہریوں کو کم از کم پچیس سو سوئس فرانک جب کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو چھ سو سوئس فرانک ماہانہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

اس بارے میں مہم چلانے والی سماجی تنظیم ’بنیادی آمدنی سوئٹزرلینڈ‘ کی خاتون ترجمان ماریلولا وِیلی کا کہنا ہے، ’’ہم اس ریفرنڈم کے ذریعے یہ چاہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے ہر شہری کو زندہ رہنے کے لیے کافی رقم دستیاب ہو۔‘‘

کم از کم ماہانہ اجرت کا خیال نیا تو نہیں ہے لیکن سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والی اس مہم کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ فن لینڈ نے بھی اس منصوبے پر نظر رکھی ہوئی ہے اور سوئٹزرلینڈ میں اس کی کامیابی کی صورت میں اسے فن لینڈ میں بھی آزمایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح جرمنی میں بھی ایسی ہی مہم شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ جرمنی میں برسر اقتدار چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ ملک میں ایسے کسی ریفرنڈم کی حمایت نہیں کرے گی تاہم اب جرمنی میں ایک سماجی تنظیم نے ایک لاکھ سے زائد افراد کے دستخطوں کے ساتھ ایک درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جرمنی میں بھی ایسا ہی ایک ریفرنڈم پراجیکٹ شروع کیا جائے۔

DW.COM