1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہرمن فان رومپوئے: شخصی خاکہ

ستائیس یورپی ممالک کے اتحاد، یورپی یونین کے نامزد صدر، باسٹھ سالہ ہرمن فان رومپوئے بیلجئیم کے وزیراعظم ہیں۔ سیاسی نظریات کے اعتبار سے ہرمن معتدل عیسائی ہیں اور انہیں اعتدال پسند دائیں بازو کا تصور کیا جاتا ہے۔

default

ذی فہم شخص کے طور پر مشہور ہرمن فان رومپوئے چھ کتابیں بھی لکھ چکے ہیں اور انہیں شاعر وزیراعظم کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔

ہرمن فان رومپوئے کی صورت میں یورپ کو اپنی پسند کا ایک ایسا سربراہ مل گیا ہے جو اعلیٰ ٹیکنوکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مشہور اور سیاسی طور پر طاقتور نہیں، جو اپنے فیصلوں میں دوسروں کی رائے کا کم خیال رکھتا ہو۔ ہرمن یکم دسمبر سے یورپ کے پہلے صدر کے تاریخی عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کی جانب سے آخری لمحات میں ہرمن کی حق میں رائے دینے سے ان کا انتخاب آسان ہوا۔ اس سے قبل براؤن اپنے پیش رو، ٹونی بلیئر کی بطور صدر نامزدگی چاہتے تھے۔

ہرمن کو بیلجئیم میں وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تاہم ملک کےبینکاری نظام کو درپیش بحرانی صورتحال میں انہوں نےمشکل سمجھی جانے والی مخلوط حکومت میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ہے۔ ان سے قبل بیلجئیم میں تقریباً ڈیڑھ سال تک سابق وزیراعظم یوویس لیٹرمی کے دور میں سیاسی بحران پایا جارہا تھا۔ ملک کے ڈچ اور فرنچ بولنے والے خطوں میں تناؤ کی صورتحال کے بعد شاہ البرٹ دوئم نے ہرمن سے وزارت اعظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے لئےکہا تھا۔

Herman Van Rompuy

ہرمن کووزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا

یورپی یونین کے نئےصدراکتیس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو برسلز میں پیدا ہوئے۔ ہرمن نے فلسفے اور معاشیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررکھی ہے۔ سیاسی میدان میں آنے سے قبل، بیلجئم کے وزیراعظم انیس سو بہتر تا پچھتر تک ملک کے مرکزی بینک میں کام بھی کرچکے ہیں۔

سیاست کی عالمی بساط پر یورپ کے صدر کی حیثیت سےانتہائی طاقتور ترین عہدہ سنبھالنے والے ہرمن کا مزاج عاجزانہ اورسادہ تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی میں سیاست ہی سب کچھ نہیں۔ ایک ذی فہم شخص کے طور پر مشہور ہرمن فان رومپوئے چھ کتابیں بھی لکھ چکے ہیں اور انہیں شاعر وزیراعظم کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM