1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہجرت کے ليے زير استعمال راستے، ٹوٹے خواب اور بے بسی کے عکاس

پناہ کی غرض سے يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران سن 2016 ميں پانچ ہزار سے زائد جبکہ سن 2015 ميں ساڑھے تين ہزار سے زيادہ افراد ہلاک يا لاپتہ ہو گئے تھے۔

سياسی پناہ کے ليے يورپی براعظم تک سفر کے دوران پچھلے برس کُل 5,096 تارکين وطن ہلاک يا لاپتہ ہوئے جبکہ اس سے ایک سال قبل یعنی 2015ء میں يہ تعداد 3,771 رہی تھی۔

سن 2016 ميں سب سے خونريز راستہ وسطی بحيرہ روم سے گزرنے والا سمندری روٹ ثابت ہوا۔ جنوری سے لے کر دسمبر تک 181,436 تارکين وطن سياسی پناہ کی غرض سے اسی راستے سے گزر کر يورپی براعظم پہنچے تاہم اس دوران 4,578 مہاجرين بحيرہ روم کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے۔ گزشتہ برس مئی کا مہينہ سب سے خونريز ثابت ہوا، جب ايک ہی ماہ ميں ہلاکتوں کی تعداد گيارہ سو سے تجاوز کر گئی تھی۔ تجزيہ کاروں کے مطابق موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ليبيا سے مہاجرين کی يورپ روانگی کے سلسلے ميں تيزی آ جاتی ہے اور يہی وجہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ميں بھی عموماً اضافہ نوٹ کيا جاتا ہے۔

سن 2015 کے اعداد و شمار کا جائزہ ليا جائے، تو اُس برس مجموعی طور پر 153,846 مہاجرين وسطی بحيرہ روم کے راستے اٹلی اور اس کے متصل علاقوں تک پہنچنے جبکہ اس دوران ہلاک يا لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 2,913 رہی۔

سن 2015 ميں مہاجرين کا بحران اپنے عروج پر تھا۔ اس سال مشرقی بحيرہ روم والا راستہ بہت زيادہ استعمال ہوا اور مجموعی طور پر اس راستے 856,732 مہاجرين پناہ کی غرض سے يورپ پہنچے۔ سفر کے دوران ہلاک يا لاپتہ ہو جانے والوں کی تعداد قريب آٹھ سو تھی۔ بعد ازاں يورپی يونين اور ترکی کے مابين معاہدے کے نتيجے ميں سن 2016 ميں یہ روٹ مقابلتاً بہت کم استعمال ہوا اور کُل 173,447 تارکين وطن اس راستے سے يورپ تک پہنچے۔ پچھلے سال مشرقی بحيرہ روم والے روٹ پر ہلاکتوں کی تعداد 441 تھی۔جبکہ مغربی بحيرہ روم سے گزرنے والے روٹ پر گزشتہ برس 77 اور اس سے پچھلے سال قريب ساٹھ افراد لاپتہ يا ہلاک ہوئے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات